رسائی کے لنکس

logo-print

'سی پیک میں دیگر ملکوں کی شمولیت پر اتفاق رائے سے غور ہو سکتا ہے'


سینیئر تجزیہ کار پروفیسر سجاد نصیر نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ لیفٹیننٹ جنرل عامر ریاض کی طرف سے یہ پیشکش بھارتی مخاصمت کو ختم کرنے کی ایک کوشش ہو سکتی ہے۔

چین نے کہا ہے کہ پاکستان کے ساتھ اقتصادی راہداری منصوبہ (سی پیک) اس کے "ایک خطہ ایک سڑک" کے تصور کے تحت منصوبہ ہے جس میں اتفاق رائے سے دیگر ممالک کی شمولیت پر غور کیا جا سکتا ہے۔

یہ بات بیجنگ میں چین کی وزارت خارجہ کی ترجمان ہوا چُھن انگ نے معمول کی نیوز بریفنگ کے دوران ایک سوال کے جواب میں کہی جو پاکستانی فوج کے ایک اعلیٰ کمانڈر کی طرف سے اس منصوبے میں شمولیت کے لیے بھارت کو پیشکش کرنے پر کیا گیا تھا۔

چینی ترجمان کا کہنا تھا کہ انھیں تعجب ہوگا کہ پاکستان کی ان کے بقول جذبہ خیرسگالی کے تحت کی گئی پیشکش کو بھارت قبول کرتا ہے یا نہیں۔

اربوں ڈالر کے چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے میں حال ہی میں ایران اور سعودی عرب بھی شمولیت کی خواہش ظاہر کر چکے ہیں جب کہ رواں ہفتے پاکستانی فوج کی سدرن کمانڈ کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل عامر ریاض نے پیشکش کرتے ہوئے کہا تھا کہ بھارت کو بھی اس منصوبے سے خطے کے دیگر ممالک کی طرح فائدہ اٹھانا چاہیے۔

بھارت نے اس پیشکش پر تو کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا لیکن نئی دہلی میں دفتر خارجہ کے ترجمان نے ایک بار پھر اس منصوبے پر اپنے ملک کے تحفظات کو دہراتے ہوئے کہا تھا کہ یہ راہداری ان کے بقول متنازع علاقے کشمیر سے گزرتی ہے۔ بھارت اس خطے پر ملکیت کا دعویدار ہے۔

پاکستان اور بھارت کے تعلقات حالیہ مہینوں سے شدید تناؤ کا شکار چلے آرہے ہیں جب کہ اسلام آباد یہ الزام لگاتا آرہا ہے کہ بھارت اقتصادی راہداری منصوبے کو سبوتاژ کرنے کی کوششیں کر رہا ہے۔ لیکن نئی دہلی اسے مسترد کرتے ہوئے اپنے ہاں ہونے والی دہشت گردی کی حمایت کا الزام پاکستان پر عائد کرتا ہے جس کی اسلام آباد تردید کرتا ہے۔

چینی وزارت خارجہ کی ترجمان نے اس امید کا اظہار کیا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری سے نہ صرف دنوں ملکوں کے معاشی حالات بہتر ہوں گے بلکہ اس سے خطے میں امن و استحکام سمیت تعاون کو بھی فروغ ملے گا۔

سینیئر تجزیہ کار پروفیسر سجاد نصیر نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ لیفٹیننٹ جنرل عامر ریاض کی طرف سے یہ پیشکش بھارتی مخاصمت کو ختم کرنے کی ایک کوشش ہو سکتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ فی الوقت یہ چین اور پاکستان کا باہمی منصوبہ ہے اور اس میں کسی اور ملک کو شامل کرنے سے متعلق پالیسی سامنے نہیں آئی۔

XS
SM
MD
LG