رسائی کے لنکس

logo-print

چین میں فضائی آلودگی انتہائی درجے تک پہنچنے کا انتباہ


چین دنیا میں سب سے زیادہ مضر صحت گیسوں کے اخراج کرنے والے ملکوں میں شامل ہے اور یہاں روایتی طور پر کوئلے سے توانائی حاصل کی جاتی ہے۔

چین میں فضائی آلودگی پر مشتمل دھند کی لہر کے باعث دارالحکومت بیجنگ میں جمعہ کو آلودگی کے انتہائی خطرے کا انتباہ جاری کیا ہے۔

ماہرین نے پیش گوئی کی ہے کہ یہ دھند کے یہ بادل زیادہ تر شمالی چین پر ہفتہ سے منگل کو منڈلاتے رہیں گے اور اس دوران فضا میں آلودگی کی شرح قابل قبول حد سے 20 گنا زیادہ تک پہنچ جائے گی۔

اس انتباہ کے تحت اسکول اور بعض کارخانے بند کر دیے گئے ہیں جب کہ نصف کے لگ بھگ نجی گاڑیوں کو سڑکوں پر آنے سے روک دیا جائے گا اور کھلی فضا میں ہونے والی تعمیراتی سرگرمیاں معطل رہیں گی۔

بیجنگ کے ایک 34 سالہ رہائشی شیانکی کہتے ہیں کہ "میں درحقیقت بہت فکر مند ہوں، تشویش کی بات یہ ہے کہ یہ (فضائی آلودگی) بچوں اور بڑی عمر کے لوگوں پر اثر انداز میں ہو گی۔ ہم جو کہ اپنے کاموں پر جانتے ہیں ہمیں بھی اس آلودگی پر تشویش ہے۔ میرے خیال میں حکومت کو اس کے حل کے لیے مزید کوششیں کرنے کی ضرورت ہے۔"

گزشتہ ہفتے ہی بیجنگ میں پہلی بار ایسا ہی انتباہ جاری کیا گیا تھا۔

چین دنیا میں سب سے زیادہ مضر صحت گیسوں کے اخراج کرنے والے ملکوں میں شامل ہے اور یہاں روایتی طور پر کوئلے سے توانائی حاصل کی جاتی ہے۔

چین نے مضر صحت گیسوں کے اخراج میں کمی کا عزم ظاہر کرتے ہوئے پیرس میں حالیہ موسمیاتی تغیراتی کانفرنس میں کیے گئے فیصلوں کی حمایت کا اعلان کیا تھا۔

XS
SM
MD
LG