رسائی کے لنکس

logo-print

چین اور جاپان کے رہنماؤں کی پہلی باضابطہ ملاقات


صدر ژی اور جاپانی وزیراعظم ابی

جاپانی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ان کی چینی صدر سے ملاقات چین کے ساتھ تعلقات میں بہتری کے لیے پہلا قدم ہے۔

چین کے صدر ژی جنپنگ اور جاپان کے وزیراعظم شنزو ابی کے درمیان اپنا اپنا منصب سنبھالنے کے بعد پہلی باضابطہ بات چیت کے لیے ملاقات ہوئی ہے۔

ژی 2013ء میں چین کے صدر بنے جب کہ ابی نے 2012 میں جاپان کی وزارت عظمیٰ سنبھالی۔

دونوں رہنماؤں کے درمیان یہ ملاقات پیر کو بیجنگ میں ہوئی۔ ایشیا پیسیفک اقتصادی تعاون کانفرنس کے لیے مختلف ملکوں کے سربراہان چین میں موجود ہیں۔

چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ژنہوا کے مطابق ژی نے ابی کو بتایا کہ چین امید کرتا ہے کہ جاپان پرامن ترقی کے راستے پر گامزن رہے گا اور محتاط فوجی اور سلامتی کی پالیسیوں کو اپنائے گا۔

ابی کا کہنا تھا کہ ان کی چینی صدر سے ملاقات چین کے ساتھ تعلقات میں بہتری کے لیے پہلا قدم ہے۔

دونوں رہنماؤں کے درمیان اس ملاقات سے تین روز قبل چین اور جاپان نے مذاکراتی عمل تیز کرنے پر اتفاق کیا تھا جس سے دنیا کی ان دوسری اور تیسری بڑی اقتصادی قوتوں کے سردمہری کے شکار تعلقات میں بہتری کی امید کی جارہی ہے۔

گزشتہ جمعہ کو جاری ہونے والے ایک مشترکہ بیان کے مطابق فریقین نے اتفاق کیا کہ وہ "بتدریج سیاسی، سفارتی اور سکیورٹی مذاکرات بحال کریں گے اور دوطرفہ سیاسی اعتماد سازی کے لیے کوششیں کریں گے۔"

اس بیان میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ یہ مذاکرات کب اور کس سطح پر ہوں گے۔

چین اور جاپان نے مشرقی بحیرہ چین میں سرحدی تنازع پر "اختلافات" کا ادراک کرتے ہوئے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ کشیدگی کو کم کرنے کے لیے "کرائسسز مینجمنٹ کا لائحہ عمل" تیار کیا جائے گا۔

XS
SM
MD
LG