رسائی کے لنکس

logo-print

چین، جاپان، جنوبی کوریا کا سفارتی تعطل ختم کرنے پر اتفاق


صدر پارک نے چینی وزیراعظم لی کیچانگ اور جاپان کے وزیراعظم شنزو ایبے کی مذاکرات میں میزبانی کی۔ تینوں رہنماؤں کا کہنا تھا کہ مذاکرات میں کھل کر تفصیلی بات چیت ہوئی۔

اتوار کو سئیول میں چین، جاپان اور جنوبی کوریا کے رہنماؤں نے علاقائی تعاون کو بحال کرنے اور متنازع مسائل پر سفارتی تعطل کو ختم کرنے کے لیے ساڑھے تین سال بعد پہلی ملاقات کی۔

جنوبی کوریا کی صدر پارک گیئون ہئی نے سربراہ اجلاس کے بعد ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ’’مجھے یقین ہے کہ سہ فریقی تعاون کے ذریعے ہم ناصرف اپنے تین ممالک بلکہ علاقے اور عالمی برادری کے امن، خوشحالی اور سلامتی میں کردار ادا کریں گے۔‘‘

صدر پارک نے چینی وزیراعظم لی کیچانگ اور جاپان کے وزیراعظم شنزو ایبے کی مذاکرات میں میزبانی کی۔ تینوں رہنماؤں کا کہنا تھا کہ مذاکرات میں کھل کر تفصیلی بات چیت ہوئی۔

بیجنگ اور سئیول نے 2012 میں ٹوکیو کے ساتھ اعلیٰ سطحی مذاکرات علاقائی تنازعات اور ان تحفظات کی بنا پر معطل کر دیے تھے کہ وزیراعظم ایبے ماضی میں جاپانی فوج کی جانب سے ایشیا کو نو آبادی بنانے کے دوران کیے جانے والے ظلم و ستم کو نظر انداز کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

پریس کانفرنس میں چینی وزیراعظم لی نے کہا کہ ان تاریخی اختلافات کو حل کیا جانا چاہیئے مگر ان کو علاقائی اقتصادی اور سلامتی کے معاملات میں تعاون کی راہ میں حائل نہیں ہونے دینا چاہیئے۔

’’ہمیں تاریخ اور تاریخی مسائل پر باہمی اتفاق پیدا کرنا چاہیئے اور ہمیں مستقبل کی طرف دیکھنا چاہیئے اور بات چیت اور تعاون پر مبی مستقبل کی سمت پر اتفاق کرنا چاہیئے۔‘‘

سہ فریقی پریس کانفرنس میں نہ تو پارک اور نہ ایبے نے اپنے تاریخی اختلافات کا ذکر کیا۔ جنوبی کوریا کی صدر اور جاپان کے وزیراعظم پیر کواپنا پہلی دوطرفہ اجلاس منعقد کریں گے جس میں دیگر متنازع مسائل پر بات چیت کا امکان ہے۔

اس ملاقات سے قبل صدر پارک نے وزیراعظم ایبے سے اس وقت تک نہ ملنے کے عہد کا اظہار کیا تھا جب تک وہ ان ہزاروں ’کمفرٹ ویمن‘ یعنی جنسی تسکین پہنچانے والی عورتوں سے معافی نہیں مانگتے جنہیں جاپانی فوج نے ایشیا پر اپنے قبضے اور جنگ عظیم دوم کے دوران جنسی غلامی کے لیے مجبور کیا تھا۔

ایبے نے متاثرین کے لیے افسوس کا اظہار کیا تھا اور جاپان کے سابقہ رہنماؤں کی طرف سے مانگی گئی معافی کی تائید تھی مگر انہوں نے سیول کی جانب سے معافی کے لیے پُر زور الفاظ کے چناؤ اور معاوضے کی ادائیگی کے مطالبے کو مسترد کر دیا تھا۔

اجلاس میں تینوں ممالک نے ایک سہ فریقی آزاد تجارتی علاقہ قائم کرنے پر اتفاق کیا۔

اس کے علاوہ شمالی کوریا کے جوہری پروگرام کے خاتمے کے لیے چھ فریقی مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ ہے۔

امریکہ، چین، روس، جاپان اور دونوں کوریائی ممالک پر مشتمل چھ فریقی مذاکرات میں 2007 میں اتفاق کیا گیا تھا کہ شمالی کوریا توانائی میں ہنگامی تعاون کے بدلے میں اپنا یونگ بیون جوہری ری ایکٹر بند کر دے گا۔

2009 میں پیانگ یانگ نے مذاکرات ختم کر دیے، عالمی معائنہ کاروں کو ملک سے نکال دیا اور بعد میں جوہری تجربات کیے جس کے بعد شمالی کوریا کی شدید مذمت کی گئی اور اس پر اقوام متحدہ نے مزید پابندیاں عائد کر دیں۔

جنوبی کوریا اور جاپان امریکہ کے اس مؤقف کی حمایت کرتے ہیں کہ شمالی کوریا ماضی میں کیے گئے معاہدوں کی پاسداری کرے اور نئے مذاکرات شروع ہونے سے قبل اپنے جوہری پروگرام کو روک دے۔

تاہم چین اس مسئلے پر شمالی کوریا سے زیادہ بات چیت اور تعاون کی حمایت کرتا ہے اور اس کے ساتھ اقتصادی تعاون کو فروغ دے رہا ہے

XS
SM
MD
LG