رسائی کے لنکس

logo-print

چین میں کرونا کی دوسری لہر، صحافیوں کو خبریں دینے سے روک دیا گیا


بیجنگ میں قائم کرونا وائرس کے عارضی کیمپ کے باہر ایک نرس فوٹوگرافر کو روک رہی ہے۔ 19 جون 2020

بیجنگ میں کرونا وائرس کی ایک نئی لہر کو پھیلنے سے روکنے کے لیے چینی حکام نے جو اقدامات کیے ہیں، ان سے سٹیزن جرنلسٹس بھی پابندیوں کے زد میں آ گئے ہیں۔

چین کے دارالحکومت بیجنگ کی ایک مارکیٹ میں چند روز پہلے ایک وائرس کا انکشاف ہوا تھا جس سے کم از کم 158 نئے کیسز سامنے آئے تھے۔ یہ حکومت کی جانب سے مارچ میں وائرس کو کنٹرول کرنے کے اعلان کے بعد پہلی بار اتنی بڑی تعداد میں نئے مریضوں کا انکشاف تھا۔

کرونا وائرس کی دوسری لہر کے متعلق زیادہ تر اطلاعات چین کے سرکاری نیوز چینلز کے توسط سے باہر آئیں اور پولیس نے ان سیٹیزن جرنلسٹس اور بلاگر کے خلاف کارروائی کی جنہوں نے ان خبروں کو اپنے بلاگ یا پیج پر شیئر کیا تھا۔

گاؤ یو ایک آزاد صحافی ہیں۔ انہوں نے وائرس کے دوبارہ پھیلاؤ سے متعلق خبریں اور ویڈیوز پوسٹ کی ہیں۔ انہوں نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ حکام نے کرونا سے متعلق خبروں کی اشاعت پر اپنے ردعمل کا اظہار ان کے خاندان کو نشانہ بنا کر کیا۔

وہ کہتی ہیں کہ بیجنگ میں پبلک سیکیورٹی حکام نے 15 جون کو اس کمپنی کے عہدے داروں کو بلایا جہاں ان کا بیٹا کام کرتا تھا۔ اور انہیں حکم دیا کہ وہ ان کے بیٹے کو برطرف کر دیں۔ جب کمپنی والوں نے پولیس سے اس کی وجہ پوچھی تو ان کا سادہ سا جواب تھا۔اسے اپنی ماں کے عمل کی سزا دینی ہے۔

گاؤیو نے بتایا کہ ان کے شوہر کا کئی سال پہلے انتقال ہو گیا تھا، اور اب بیٹے کی ملازمت ان کی پوسٹ کی وجہ سے جاتی رہی۔

ان کا کہنا تھا کہ میں نے اپنی پوسٹ میں سڑکوں کی بندش اور پولیس کی گاڑیوں کا ذکر کیا تھا، جس کا نتجہ میرے بیٹے کی نوکری ختم ہونے کی صورت میں نکلا۔ یہ سیدھا سادا سیاسی انتقام کا معاملہ ہے۔

انہوں نے بتایا کہ صورت حال یہ ہے کہ اس وقت بیجنگ بدنظمی کی کیفیت میں ہے اور کسی کو بھی عالمی وبا کے متعلق بات کرنے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ آپ کیا چیز چھپانا چاہتے ہیں اور میں نے کس قانون کی خلاف ورزی کی ہے۔

ڈانگ چنگ ڈسٹرکٹ کے تعلق رکھنے والے انسانی حقوق کے ایک کارکن، جنہوں نے پچھلے ہفتے چین میں پریس کی آزادی کے متعلق بات کی تھی، جب وائس آف امریکہ نے انہیں انٹرویو کے لیے کہا تو انہوں نے انکار کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پچھلے انٹرویو کے بعد حکام نے انہیں انتباہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہوں نے غیرملکی میڈیا سے بات کیوں کی۔ وائس آف امریکہ انہیں کسی نقصان سے بچانے کے لیے ان کی شناخت ظاہر نہیں کر رہا۔

واشنگٹن میں موجود چین کے سفارت خانے نے، اس بارے میں سوال سے متعلق وی او اے کی ای میل کا کوئی جواب نہیں دیا۔

اس وقت بیجنگ کی توجہ کرونا وائرس کی دوسری لہر کا ماخذ ڈھونڈنے پر مرکوز ہے۔ جس کے متعلق ابتدائی طور پر یہ بتایا گیا ہے کہ یہ وائرس درآمد کی جانے والی سائمن مچھلی سے پھیلا ہے۔ جب کہ صحت کے عالمی ادارے نے اس کہانی پر شک کا اظہار کیا ہے۔ بیجنگ میں صحت کے حکام اور ریاستی میڈیا نے کہا ہے کہ اس سلسلے میں کی جانے والی تحقیقات میں مچھلی کو ایک ممکنہ ذریعے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

بیجنگ کے فنگٹائی ڈسٹرکٹ میں واقع مارکیٹ میں یہ وائرس پھیلا تھا۔ وہاں کی ایک رہائشی خاتون زانگ چنگ سکیا نے وی او اے کو بتایا کہ لوگوں کو حکام کی جانب سے جو کچھ بتایا جاتا ہے، انہیں اس پر اعتبار کرنا پڑتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ درآمد کی جانے والی مچھلی سے وائرس پھیلنے کی ابتدائی تحقیقات کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔

کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ وائرس کے دوبارہ پھیلنے کی وجہ پابندیوں کا اٹھایا جانا ہے۔

بیجنگ کے ایک شہری سن زونگ نے بتایا کہ پابندیاں اٹھائے جانے کے 11 روز کے بعد وائرس پھیلنا شروع ہوا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG