رسائی کے لنکس

logo-print

اطلاعات کے مطابق چین کے وسطی صوبے ہونان میں ایک شخص نے منگل کے روز لنگ لنگ ڈسٹرکٹ کورٹ کی عمارت میں گھس کر تین افراد کو ہلاک اور تین کو زخمی کر نے کے بعد خودکشی کر لی ہے۔

چین کے سرکاری خبر رساں ادارے نے ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ حملے میں ہلاک اور زخمی ہونے والے تمام افراد جج صاحبان تھے جب کہ ایک مقامی اخبار کا کہنا ہے کہ مرنے والوں میں سے ایک عدالت کا کلرک تھا۔

ژو جن نامی 46 سالہ حملہ آور نے عدالت کی عمارت کی چوتھی منزل پر ایک کمرے میں موجود جج صاحبان پر مختلف ہتھیاروں سے حملہ کر دیا اور ان کو بچانے کے لیے آنے والوں کو بھی فائرنگ کا نشانہ بنایااوربعد میں ژو جن نے خود کو گولی مار لی۔

ژو جن ، جو کہ لنگ لنگ پوسٹ آفس میں سکیورٹی کا سربراہ تھا،اپنے ایک ساتھی کو یہ کہہ کردفتر سے نکلا تھا کہ وہ سارے ہتھیار حکام سے معائنے کے لیے لے کر جا رہا ہے۔

خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ ژو جن تین سال پہلے اپنی بیوی کے ساتھ جائیدادکے تنازعے پر قائم مقدمے میں اپنے خلاف دیے گئے عدالتی فیصلے کا بدلہ لینا چاہتا تھا ۔

چین میں اجتماعی قاتلانہ حملے یوں تو کم ہی پیش آتے ہیں لیکن گذشتہ چند ماہ میں ایسے متعدد واقعات ہوئے ہیں جن میں اسکولوں میں چھوٹے بچوں کو ہلاک و زخمی کیا گیا ہے۔ بیشتر حملوں میں چھروں کو ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیاتھا۔

واضح رہے کہ چین میں آتشی اسلحہ رکھنے پر پابندی ہے۔

XS
SM
MD
LG