رسائی کے لنکس

logo-print

چین اور شمالی کوریا کا علاقائی تعاون جاری رکھنے پر اتفاق


چین کے صدر دو روزہ دورے پر جمعرات کو شمالی کوریا پہنچے تھے۔

چین اور شمالی کوریا نے اتفاق کیا ہے کہ دونوں ممالک کو درپیش عالمی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے باہمی تعلقات کا فروغ اور علاقائی تعاون خطے میں امن و استحکام کے لیے ضروری ہے۔

چین کے صدر دو روزہ دورے پر جمعرات کو پیانگ یانگ پہنچے تھے جہاں ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔ شمالی کوریا کی سرکاری نیوز ایجنسی، کے سی این اے کے مطابق، شی جن پنگ کی آمد پر ہزاروں افراد نے ان کی تصاویر پر مبنی پوسٹرز اٹھا رکھے تھے جن پر تہنیتی پیغامات درج تھے۔

خبر رساں ادارے، رائٹرز کے مطابق جمعے کو چین کے صدر شی جن پنگ اور شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کے درمیان ملاقات ہوئی جس میں خطے کی صورت حال خاص طور پر دونوں ممالک کے امریکہ کے ساتھ کشیدہ تعلقات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

چین کے کسی صدر کا 14 سال میں یہ پہلا دورہ شمالی کوریا ہے۔ چین خطے میں شمالی کوریا کا بڑا حلیف سمجھا جاتا ہے۔ بعض مبصرین کے مطابق، شمالی کوریا کو یہ امید ہے کہ چین امریکہ کی جانب سے اس پر عائد پابندیوں کا اثر زائل کرنے میں بھرپور تعاون کرے گا۔

چین کے صدر ایسے وقت میں شمالی کوریا کا دورہ کر رہے ہیں جب ایک ہفتے بعد جی 20 اجلاس کے دوران ان کی امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے تجارتی تنازع پر بات چیت بھی متوقع ہے۔

چین کے خبر رساں ادارے، 'ژن ہوا' کے مطابق چینی صدر نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ امریکہ اور شمالی کوریا جوہری معاملات پر اختلافات کا سیاسی حل نکال لیں گے۔ ان کے بقول، مذاکرات کا جاری رہنا خطے کے امن کے لیے ناگزیر ہے۔

جمعرات کو صدر شی جن پنگ نے جوہری پروگرام سے متعلق شمالی کوریا کے اقدامات کی تعریف کی تھی۔ صدر نے کہا تھا کہ دنیا کو امید ہے کہ شمالی کوریا اور امریکہ کے مذاکرات کامیاب ہوں گے۔

امریکہ، اقوامِ متحدہ اور یورپی یونین نے شمالی کوریا کے جوہری اور میزائل پروگرام پر سخت اقتصادی پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔ امریکہ کا یہ مؤقف ہے کہ شمالی کوریا پر سے پابندیاں صرف اسی صورت ہٹائی جائیں گی جب وہ جوہری طور پر غیر مسلح ہو جائے۔

گزشتہ سال کے آغاز میں امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان نے ویت نام میں اس سلسلے میں ملاقات بھی کی تھی جو نتیجہ خیز نہیں ہو سکی تھی۔

حال ہی میں شمالی کوریا نے مختلف میزائل تجربات کیے تھے جس پر صدر ٹرمپ نے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔

شمالی کوریا نے بھی امریکہ سے کہا تھا کہ وہ اس سے متعلق معاندانہ رویہ ترک کر کے برابری کی سطح پر مذاکرات کو آگے بڑھائے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG