رسائی کے لنکس

logo-print

چین اور‘ آئی اے اِی اے’ کی طرف سے جوہری تعاون کےسمجھوتے پر دستخط


چین اورجوہری توانائی کے بین الاقوامی ادارے (آئی اے اِی اے)نے اِس بات کاعہد کیا ہے کہ مشرقی ایشیا میں جوہری سلامتی کو بہتر بنانے کے لیے مل کر کام کریں گے۔

نئے سمجھوتے کی رو سے دونوں کے لیے ضروری ہوگا کہ اسٹاف کی تربیت، قوائد و ضوابط اور معیار کے بارے میں زیادہ قریبی تعاون کریں۔

یہ سمجھوتہ منگل کے روز جاپانی سفارت کار یوکییا امانو کی طرف سے بیجنگ کے دورے کے دوران عمل میں آیا، جو دسمبر میں آئی اے اِی اے کے سربراہ بنے تھے۔ چین کی جوہری توانائی کے ادارے کی چیرمین، قین قی فا نے اپنے ملک کی طرف سے دستخط کیے۔

رپورٹوں میں شمالی کوریا کا ذکر نہیں آیا، جس کا کہنا ہے اُس نے اپنے جوہری ہتھیار کا تجربہ کر لیا ہے اور جسے علاقے میں نیوکلیئر سکیورٹی کے لیے سنگین خطرہ تصور کیا جاتا ہے۔ چین، شمالی کوریا کوامداد اور اشیائے ضروری سپلائی کرنے والا اہم ترین ملک ہے۔

چین پر پاکستان کے صوبہٴ پنجاب کے لیے دو مجورہ نیوکلیئر ری ایکٹروں کے لیے مالی امداد مہیا کرنے پر سوالات اُٹھائے گئے ہیں۔

چین، نیوکلیئر سپلائیرز گروپ کا رُکن ہے، جِس کے ارکان نے عہد کیا ہے کہ ایسے ممالک کو نیوکلیئر ٹیکنالوجی نہیں دےگا جو بین الاقوامی تحفظ کے معیار پر پورے نہیں اُترتے۔

پاکستان، جِس نے 1998ء میں جوہری ہتھیاروں کے پانچ کامیاب تجربات کا اعلان کیا تھا،نے ابھی تک جوہری عدم پھیلاؤ کے سمجھوتے پر دستخط نہیں کیے اور اُس پر جوہری تجارت کی پابندی عائد ہے۔

امریکہ، بھارت کے ساتھ نیوکلیئر ٹیکنالوجی کا تبادلہ کرتا ہے۔ بھارت بھی این پی ٹی پر دستخط کرنے سے انکار کرتا ہے۔ لیکن اُسے2008ء میں نیوکلیئر سپلائیرز گروپ کی طرف سے استثنیٰ حاصل ہو چکا ہے۔

XS
SM
MD
LG