رسائی کے لنکس

چین کے صدر شی جنپنگ نے کہا ہے کہ افریقی ملک جبوتی میں چین کے پہلے فوجی اڈے پر کام کرنے والے فوجی دستے امن و استحکام کے فروغ کے لیے کام کریں۔

چینی صدر نے یہ بات جبوتی میں چینی فوجی اڈے پر تعینات چینی فوجیوں سے وڈیو کے ذریعے گفتگو کرتے ہوئے انہیں (چین کے) اچھے تشخص کو فروغ دینے کا کہا۔

چین نے اس اڈے کو اگست میں باضابطہ طور پر اسی دن کھول دیا تھا جس دن پیپلز لبریشن آرمی کے قیام کی 90 ویں سالگرہ منائی گئی تھی۔ یہ چین کا بیرون ملک پہلا بحری اڈہ ہے اگرچہ چین اسے ایک لاجسٹکس سہولیات فراہم کرنے کی جگہ قرار دیتا ہے۔

بحرہند کے شمال مغربی کنارے پر واقع ہونے کی وجہ سے جبوتی اہم جغرافیائی حیثیت کا حامل ملک ہے اور اسی وجہ سے بھار ت کے لیے یہ امر تشویش کا باعث ہے کہ اس خطے کے بعض دیگر ملکوں کے علاوہ چین یہاں بھی اپنا فوجی ا تحاد اور اثاثے بنا کر بھارت کے گرد گھیرا تنگ کر رہا ہے۔ اس نے بنگلادیش، میانمار اور سری لنکا میں بھی ایسے ہی اڈے بنائے ہیں۔

چین کی وزارت دفاع نے جمعے کو دیر گئے ایک بیان میں کہا کہ بیجنگ میں چین کی مشترکہ کمانڈ مرکز کے دورے کے دوران جبوتی میں متعین چینی فورسز سے گفتگو کرتے ہوئے صدر شی کو اڈے کے آپریشنز اور وہاں متعین فوجیوں کی زندگی سے متعلق "بہت اچھی آگاہی حاصل ہوئی ہے۔"

بیان میں مزید بتایا گیا ہے کہ شی نے " چین کی فوج کا بہتر تشخص قائم کرنے اور بین الاقوامی اور علاقائی امن و استحکام قائم کر نے کے حوالے سے ان کی حوصلہ افزائی کی۔"

چین نے گزشتہ سال جبوتی میں اس اڈے کی تعمیر شروع کی تھی جو یمن اور صومالیہ کے ساحلوں پر خاص طور پر امن قائم کرنے اور انسانی بہبود کے کاموں کے لیے چینی جہازوں کو رسد فراہم کرنے کے کام آئے گا۔

چینی صدر شی جنپنگ اپنی فوج کو جدید بنانے کے لیے ایک بہت بڑے منصوبے کی نگرانی کر رہے ہیں جس میں وطن سے بہت دور کام کرنے کے لیے چین کی فورسز کی استعداد کار کو بڑھانا بھی شامل ہے۔

جبوتی ایک چھوٹا سا ملک ہے جو بحیرہ احمر میں جنوب میں داخل ہونے والے مقام پر واقع ہے اور یہاں سے ایک راستہ سویز نہر کی طرف بھی جاتا ہے اور اسی ملک میں امریکہ، جاپان اور فرانس کے فوجی اڈے بھی موجود ہیں۔

سفارتی حلقوں میں اس بارے میں قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ چین دیگر ملکوں جیسا کہ پاکستان ہے، فوجی اڈہ تعمیر کر سکتا ہے تاہم حکومت ایسے کسی امکان کا مسترد کر چکی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG