رسائی کے لنکس

logo-print

چین کی مشہور 'پیڈل فش' کی نسل دنیا سے ختم ہو گئی 


چین کی پیڈل فش میوزیم میں رکھی ہے

چین کی شارک نسل کی پیڈل فش، جسے تازہ پانیوں میں پائی جانے والی سب سے بڑی شارک کے طور پر جانا جاتا تھا، دنیا سے ختم ہو گئی ہے۔ اس مچھلی کو چند عشروں سے معدومی کے خطرے کا سامنا تھا اور اسے بچانے کی کوششیں کی جا رہی تھیں، جو بارآور ثابت نہ ہو سکیں۔ ان دنوں چین میں انٹرنیٹ پر پیڈل فش کے حق میں اختتامی کلمات پوسٹ کیے جا رہے ہیں۔

چین کی پیڈل فش کو اس کے لمبے تیز دھار جبڑے کی وجہ سے سورڈ فش یعنی تلوار مچھلی بھی کہا جاتا ہے۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اس مچھلی کی تاریخ لگ بھگ تین کروڑ چالیس لاکھ سال پرانی ہے۔ یہ عموماً 23 فٹ لمبی ہوتی ہے۔

یہ زیادہ تر چین کے دریائے یانگ زی میں پائی جاتی تھی، جس کا بڑے پیمانے پر شکار کیا جاتا رہا اور اس کے ساتھ ساتھ دریا کا رخ بدلنے اور اس پر ڈیم تعمیر کرنے کی وجہ سے اس کی افزائش گاہیں بھی ختم ہوتی چلی گئیں۔ اور بالآخر پیڈل فش دنیا سے غائب ہوگئی، جسے اب صرف تصویروں اور عجائب گھروں میں ہی دیکھا جا سکتا ہے۔

پیڈل فش کی معدومی کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ وہ صرف آزاد ماحول میں پروان چڑھتی ہے اور اسے جوہڑ بنا کر پالا نہیں جا سکتا۔

فطرت کے تحفظ کی عالمی تنظیم کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس وقت دنیا میں کسی بھی جگہ پیڈل فش زندہ حالت میں موجود نہیں ہے۔ اس لیے یہ سمجھ لینا چاہیے کہ یہ مچھلی اب دنیا سے ختم ہو چکی ہے۔

چین کی ماہی پروری سے متعلق اکیڈمی کے سائنس دانوں، کینٹ یونیورسٹی اور چیک ری پبلک کی ساؤتھ بو ہیمیا یونیورسٹی کے ماہرین کی ایک مشترکہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 1970 کے عشرے سے چین کی پیڈل فش کی آبادی مسلسل گھٹ رہی تھی۔ آبادی میں انحطاط کی بڑی وجہ دریائے یانگ زی پر ڈیم کی تعمیر ہے۔ اس ڈیم کے ذریعے دریا کا رخ تبدیل کیا گیا اور 2003 میں اس پر مزید پراجیکٹ تعمیر کیے گئے۔ یہ وہ آخری سال تھا جب اس علاقے میں پیڈل فش کو زندہ حالت میں دیکھا گیا۔

سن 2017 اور 2018 میں دریائے یانگ زی میں کیے گئے ایک سروے کے مطابق وہاں مچھلیوں کی 332 اقسام موجود تھیں مگر ان میں ایک بھی پیڈل فش نہیں تھی۔

سائنس دانوں کا قیاس ہے کہ پیڈل فش 2005 اور 2010 کے درمیانی عرصے میں دنیا سے ختم ہو گئی۔

سائنس دانوں نے پیڈل فش کی نسل کے خاتمے کو ایک بڑا سانحہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دریائے یانگ زی کے قدرتی نظام کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔

فطری نظام کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے ادارے، گرین پیس کی مشرقی ایشیا کی عہدے دار پین ونگ جن کا کہنا ہے کہ عشروں سے جاری انسانی سرگرمیوں کی وجہ سے اب دریائے یانگ زی کا فطری نظام اپنی تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے۔

چین کی انٹرنیٹ سائٹ وی بو پر کئی صارفین نے پیڈل فش کی نسل کے خاتمے کی خبروں کے بعد اس خواہش کا اظہار کیا ہے کہ وہ ایک بار پھر یانگ زی کے پانیوں پر اسے تیرتے ہوئے دیکھنا چاہتے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG