رسائی کے لنکس

قتل کیا جانے والا چینی جوڑا تبلیغ کر رہا تھا، کس مذہب کی؟ یہ ابھی واضح نہیں


وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ یہ انتہائی بدقسمتی کی بات ہے کہ بزنس ویزے کا غلط استعمال ہوا جس کے نتیجے میں دو چینی باشندوں کو اغوا اور بعد ازاں ہلاک کیے جانے کا افسوس ناک واقعہ پیش آیا۔

پاکستان نے کہا ہے کہ حال ہی میں بلوچستان میں داعش سے وفاداری رکھنے والے لوگوں نے جس چینی جوڑے کو اغوا کرنے کے بعد قتل کیا تھا، وہ تجارت کے بھیس میں کسی عقیدے کی تبلیغ کر رہے تھے۔

قتل کیے جانے والے چینی باشندوں کو اسلحے کی نوک پر پچھلے مہینے کے آخر میں کوئٹہ سے اغوا کیا گیا تھا۔

گذشتہ جمعرات تک کسی نے اس واقعہ کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ نہیں کیا تھا۔ لیکن پھر جمعرات کو داعش کی ترجمان ویب سائٹ عماق نیوز ایجنسی نے یہ دعوی کیا کہ انہیں ہلاک کر دیا گیا ہے۔

بعد ازاں داعش نے ایک ویڈیو جاری کی جس میں خون میں لت پت چینی مرد کی زنگ یانگ کو آخری سانسیں لیتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔

پاکستانی حکام نے اس واقعہ کے فوراً بعد کوئٹہ سے 11 چینی باشندوں کا نکال لیا۔

پیر کو پاکستان کے وزیر داخلہ نے اس بد قسمت واقعہ کے پس منظر میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کا صدارت کی اور حکام کو ہدایت کی کہ وہ چینی باشندوں کو ویزے جاری کرنے کے طریقہ کار پر نظر ثانی کریں۔

خبروں میں بتایا گیا ہے کہ چینی باشندوں کا ایک گروپ، جس میں ہلاک کیے جانے والا چینی جوڑا بھی شامل تھا، بزنس ویزے پر پاکستان میں داخل ہوا۔ لیکن کاروباری سرگرمیوں میں حصہ لینے کی بجائے وہ کوئٹہ چلے گئے اور وہاں انہوں نے اردو زبان سیکھنے کی آڑ میں تبليغ کا کام شروع کردیا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ کوریا کا ایک باشندہ جو کوئٹہ میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کی ایک کمپنی چلا رہا تھا، چینی گروپ کا میزبان تھا۔

وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ یہ انتہائی بدقسمتی کی بات ہے کہ بزنس ویزے کا غلط استعمال ہوا جس کے نتیجے میں دو چینی باشندوں کو اغوا اور بعد ازاں ہلاک کیے جانے کا افسوس ناک واقعہ پیش آیا۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ وزیر داخلہ نے عہدے داروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ پاکستان میں داخل ہونے والے چینی باشندوں کا ڈیٹا بیس تیار کریں تاکہ سیکیورٹی ادارے ان کے تحفظ کو یقینی بنا سکیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG