رسائی کے لنکس

logo-print

ماحولیاتی تبدیلیوں کے مقابلے کے لیے چین کی تیاری


ماحولیاتی تبدیلیوں کے مقابلے کے لیے چین کی تیاری

چین کی حکومت نے ماحولیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کی تیاریوں کے سلسلے میں ایک بڑے پروگرام کا اعلان کیا ہے جس کے تحت شمالی اور جنوبی قطبی خطوں میں تحقیق کی غرض سے ماہرین کی ٹیمیں روانہ کی جائیں گی۔

چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی 'ژنہوا' کی جانب سے پیر کو جاری کی گئی ایک خبر میں حکام کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ چین 2015ء تک انٹارکٹک کی جانب پانچ اور آرکٹک کو دو تحقیقاتی ٹیمیں روانہ کرے گا۔ حکام کےمطا بق پہلی ٹیم رواں برس نومبر کے آغاز تک انٹارکٹک کو روانہ ہوجائے گی۔

حکام نے 'ژنہوا' کو بتایا کہ محققین قطبی علاقوں میں موسمیاتی اور ماحولیاتی تبدیلیوں کا جائزہ لیں گے۔ قطبی علاقوں میں چینی مشنز کے منتظم ادارے 'آرکٹک اینڈ انٹارکٹک ایڈمنسٹریشن' کے ڈائریکٹر کو تانژو کا کہنا ہے کہ ان کا ملک قطبی علاقوں میں آنے والی والی ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے خود کو محفوظ نہیں رکھ سکتا۔

حکام نے یہ بھی بتایا کہ چین 2015ء تک اپنا دوسرا برف توڑ بحری جہاز بھی تیار کرلے گا جو اس کے موجودہ جہاز 'ژی لونگ' یعنی 'آئس ڈریگن' کے ساتھ قطبی علاقوں میں مہمات انجام دے گا۔

ایجنسی کا کہنا ہے کہ دونوں برف توڑ جہازوں کو دونوں قطبی علاقوں میں بیک وقت کام پر تعینات کرنے کے حوالے سے منصوبہ بھی زیرِ غور ہے۔

XS
SM
MD
LG