رسائی کے لنکس

logo-print

چین نے متنازع جزائر پر دوبارہ جنگی جہاز تعینات کردیے


امریکی حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر صحافیوں کو بتایا ہے کہ ان طیاروں کی تعداد 10 سے کم ہے اور یہ ووڈی نامی اسی جزیرے پر تعینات کیے گئے ہیں۔

چین نے بحیرۂ جنوبی چین میں واقع ان متنازع جزائر پر ایک بار پھر اپنے جنگی طیارے تعینات کردیے ہیں جن پر خطے کے دیگر ممالک بھی ملکیت کے دعویدار ہیں۔

امریکی حکام کے مطابق جزائرِ پیراسیل کی سیٹلائٹ سے حاصل ہونے والے تازہ تصاویر میں چینی فضائیہ کے 'شینیان جے-11' اور 'ژیان کے ایچ-7' ساختہ طیارے نظر آرہے ہیں۔

امریکی حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر صحافیوں کو بتایا ہے کہ ان طیاروں کی تعداد 10 سے کم ہے اور یہ ووڈی نامی اسی جزیرے پر تعینات کیے گئے ہیں جہاں چین نے رواں ماہ زمین سے فضا میں مار کرنے والے 'ایچ کیو-9' ساختہ جدید میزائل نصب کیے تھے۔

گزشتہ روز ایک امریکی تحقیقی ادارے نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ چین متنازع سلسلۂ جزائر پر جدید راڈار نظام بھی نصب کر رہا ہے جس کی تنصیب سے وہ علاقے میں بحری اور فضائی ٹریفک کی زیادہ بہتر نگرانی کے قابل ہوجائے گا۔

گزشتہ سال نومبر میں چین کے سرکاری ذرائع ابلاغ نے ووڈی جزیرے پر موجود چینی فضائیہ کے 'جے-11' جنگی طیاروں کی تصاویر جاری کی تھیں جن پر امریکہ اور خطے کے دیگر ملکوں نے احتجاج کیا تھا۔

ان تصاویر کے ردِ عمل میں امریکہ کے کم از کم دو جنگی بحری جہازوں نے متنازع جزائر کے نزدیک گشت کیا تھا جب کہ امریکی 'بی-52' طیاروں نے بھی بحیرۂ جنوبی چین کے متنازع علاقے پر پرواز کی تھی۔

امریکہ نے کہا تھا کہ اس کے بحری جہازوں اور طیاروں نے یہ گشت "بین الاقوامی پانیوں میں آمد و رفت کی عام اجازت" کے اصول کے تحت کیا ہے۔

امریکہ کے اس اقدام پر چین کی حکومت نے سخت ردِ عمل ظاہر کرتے ہوئے اسے کشیدگی کو بڑھاوا دینے کی دانستہ کوشش قرار دیا تھا۔

بحیرۂ جنوبی چین کے متنازع جزائر میں چین کی جانب سے فوجی تنصیبات کی تعمیر اور راڈار نظام کی تنصیب سے متعلق امریکی تحقیقی ادارے کی رپورٹ اور علاقے میں چینی جنگی طیاروں کی تعیناتی کی اطلاعات ایسے وقت میں منظرِ عام پر آئی ہیں جب چین کے وزیرِ خارجہ وانگ یی امریکہ کے دورے پر ہیں۔

گزشتہ روز واشنگٹن میں اپنے امریکی ہم منصب جان کیری کے ہمراہ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے چینی وزیرِ خارجہ نے امید ظاہر کی تھی کہ امریکہ متنازع جزائر کے نزدیک اپنے گشت اور پروازیں روک دے گا۔

چینی وزیرِ خارجہ کے اس بیان پر جان کیری نے کہا تھا کہ بحیرۂ جنوبی چین میں اس وقت بدقسمتی سے میزائل، جنگی طیارے، ہتھیار اور توپ خانہ اور ایسی کئی چیزیں موجود ہیں جنہوں نے اس سمندر کو پرامن تجارت کے لیے استعمال کرنے والی ہر قوم کو تشویش میں مبتلا کر رکھا ہے۔

چین نے گزشتہ چند ماہ کے دوران بحیرۂ جنوبی چین کے اسپریٹلے اور پیراسیل نامی سلسلۂ جزائر پر اپنی ملکیت کے دعوے کو مستحکم کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر تعمیرات کی ہیں جب کہ کئی زیرِ سمندر چٹانوں پر مصنوعی جزائر بھی تعمیر کرلیے ہیں۔

ان جزائر پر تائیوان، ویتنام، فلپائن، ملائیشیا اور برونائی بھی ملکیت کے دعویدار ہیں جو متازع علاقے میں چین کی تعمیرات پر احتجاج کرتے آئے ہیں۔

XS
SM
MD
LG