رسائی کے لنکس

چین کا نام غلط لکھنے پر امریکہ کی معذرت


فائل

چین کا سرکاری نام 'پیپلز ری پبلک آف چائنا' ہے جب کہ 'ری پبلک آف چائنا' تائیوان کا سرکاری نام ہے جسے چین اپنا ایک صوبہ قرار دیتا ہے۔

چین نے کہا ہے کہ امریکی حکام نے وائٹ ہاؤس کے ایک بیان میں چین کا نام غلط لکھنے پر معذرت کرلی ہے۔

گزشتہ ہفتے جرمنی کے شہر ہیم برگ میں 'جی-20' سربراہی اجلاس کے موقع پر امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور چین کے صدر ژی جن پنگ کے درمیان ملاقات کے بعد وائٹ ہاؤس نے جو اعلامیہ جاری کیا تھا اس میں صدر جن پنگ کو "پیپلز ری پبلک آف چائنا" کے بجائے صرف "ری پبلک آف چائنا" کا صدر لکھا گیا تھا جس پر چین نے سخت احتجاج کیا تھا۔

چین کا سرکاری نام 'پیپلز ری پبلک آف چائنا' ہے جب کہ 'ری پبلک آف چائنا' تائیوان کا سرکاری نام ہے جسے چین اپنا ایک صوبہ قرار دیتا ہے۔

تائیوان کے معاملے پر چین کی حکومت خاصی حساس ہے اور بین الاقوامی برادری کے تائیوان کے ساتھ سفارتی اور تجارتی تعلقات کی حوصلہ شکنی کرنا چین کی خارجہ پالیسی کا بنیادی نکتہ ہے۔

پیر کو معمول کی بریفنگ کےد وران چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان گینگ شوانگ نے صحافیوں کو بتایا کہ امریکی حکام نے اس تیکنیکی غلطی پر معذرت کا اظہار کیا ہے اور بتایا ہے کہ انہوں نے بیان درست کردیا ہے۔

وائس آف امریکہ نے چینی ترجمان کے بیان کی تصدیق کے لیے وائٹ ہاؤس کے حکام سے رابطہ کیا لیکن انہوں نے معاملے پر ردِ عمل دینے سے معذرت ظاہر کی ہے۔

تائیوان کے ساتھ امریکہ کے رابطوں خصوصاً صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے برسرِ اقتدار آنے کے بعد ان کی تائیوان کی صدر سائے انگوین سے فون پر بات چیت پر چین نے خاصی برہمی کا اظہار کیا تھا۔

امریکہ گزشتہ چار دہائیوں سے تائیوان سے متعلق چین کے موقف کا حامی رہا ہے اور تائیوان کو چین کا ایک حصہ تسلیم کرتا ہے۔

لیکن ساتھ ہی امریکی حکومت کے تائیوان کے ساتھ بھی قریبی تعلقات قائم ہیں اور عالمی فورمز پر امریکہ تائیوان کا سرگرم حامی ہے۔

امریکی حکومت نے حال ہی میں تائیوان کو ایک ارب 40 کروڑ ڈالر مالیت کے ہتھیار فروخت کرنے کی بھی منظوری دی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG