رسائی کے لنکس

logo-print

چین کی امریکہ کو 'تجارتی جنگ' کے خاتمے کے لیے مذاکرات کی پیشکش


چینی نائب وزیرِ اعظم کے بقول تجارتی جنگ سے نہ صرف چین اور امریکہ کا نقصان ہوگا بلکہ یہ جنگ دنیا کے دیگر ممالک کے مفاد میں بھی نہیں ہے۔ (فائل فوٹو)

چین نے کہا ہے کہ امریکہ سے جاری 'تجارتی جنگ' کا پُرامن حل مذاکرات کے ذریعے چاہتے ہیں اور امریکہ سمیت دنیا بھر کے تاجروں کو سرمایہ کاری کی پیشکش کرتے ہیں۔

خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق چین کے نائب وزیرِ اعظم لیو ہی نے خواہش کا اظہار کیا ہے کہ چین امریکہ سے جاری تجارتی تنازع کے حل کے لیے مذاکرات پر تیار ہے اور تناؤ کم کرنے کے لیے پُرامن بات چیت کا حامی ہے۔

لیو ہی امریکہ سے مذاکرات کرنے والی ٹیم کے سربراہ ہیں۔ انہوں نے پیر کو ایک ٹیکنالوجی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تجارتی جنگ سے کسی ملک کو فائدہ نہیں پہنچے گا۔

اُن کے بقول اس جنگ سے نہ صرف چین اور امریکہ کا نقصان ہوگا بلکہ یہ جنگ دنیا کے دیگر ممالک کے مفاد میں بھی نہیں ہے۔

یاد رہے کہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کو چین کی 550 ارب ڈالر کی مصنوعات پر ٹیکس کی شرح 10 فی صد سے بڑھا کر 15 فی صد کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس سے قبل چین نے امریکہ کی 75 ارب ڈالر کی مصنوعات پر ٹیکس کی شرح میں اضافہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔

دنیا کی دو مستحکم معیشتوں کے درمیان تجارتی جنگ کی وجہ سے سرمایہ کاروں نے بڑے نقصان کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ جب کہ کاروباری ہفتے کے آغاز کے ساتھ ہی عالمی مارکیٹ میں چین کی کرنسی ین کی قدر 11 برسوں میں کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔

لیو ہی چینی صدر شی جن پنگ کے معاشی مشیر بھی ہیں۔ جن کا کہنا ہے کہ چین مشاورت اور تعاون کے رویے کے ساتھ امریکہ سے تجارتی جنگ کی مخالفت کرتا ہے اور اس کا حل چاہتا ہے۔

اُن کا مزید کہنا تھا کہ چین امریکہ کی کمپنیوں کو خصوصی طور پر خوش آمدید کہتا ہے اور ان سے اچھا رویہ اختیار کیا جاتا ہے۔

لیو ہی نے پیشکش کی ہم امریکہ سمیت دنیا بھر کے تاجروں کو اپنے ملک میں سرمایہ کاری کی پیشکش کرتے ہیں کہ وہ یہاں آئیں اور کام کریں۔

لیو ہی نے کہا کہ ہم سرمایہ کاری کے خوشگوار ماحول پیدا کر رہے ہیں جہاں سرمایہ کاروں کو تحفظ سمیت ہماری منڈیوں میں جدید انڈسٹریز کے مواقع دستیاب ہوں گے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG