رسائی کے لنکس

logo-print

تیانجن دھماکوں کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات جاری


دھماکوں سے ہلاکتوں کی تعداد 50 تک پہنچ گئی ہے جب کہ 700 زخمیوں میں سے 70 کی حالت تشویشناک ہے۔

چین میں حکام ساحلی شہر تیانجن میں ہونے والے دو طاقتور دھماکوں کی وجوہات جاننے کی کوشش میں مصروف ہیں جب کہ مقامی آبادی ان خدشات کا اظہار کر رہی ہے کہ متاثرہ گودام کے قریب اب بھی خطرناک کیمیائی مادہ موجود ہو سکتا ہے۔

بدھ کو دیر گئے ایک گودام میں اچانک یکے بعد دیگرے دو دھماکے ہوئے جن کے بارے میں بتایا گیا کہ یہ کیمیکل کنٹینر میں ہوئے تھے۔ جمعہ کو علی الصبح بھی متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔

حکام کے مطابق دھماکوں کی شدت دور دور تک محسوس کی گئی اور اس سے مرنے والوں کی تعداد 50 تک پہنچ گئی ہے جب کہ 700 زخمیوں میں سے 70 کی حالت تشویشناک ہے۔ ہلاکتوں میں اضافے کا بھی خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

سرکاری خبر رساں ایجنسی "ژنہوا" کے مطابق 217 ارکان پر مشتمل ایک ٹیم کو علاقے میں روانہ کیا گیا ہے جس میں فوج کے جوہری اور بائیوکیمیکل ماہرین کے علاوہ جوہری توانائی کے عالمی ادارے "آئی اے ای اے" کے بیجنگ میں قائم دفتر کے لوگ شامل ہیں۔

تیانجن شہر کے تحفظ کے ادارے کے عہدیداروں نے جمعہ کو بتایا کہ انھیں تاحال یہ معلوم نہیں ہو سکا ہے کہ گودام میں کس نوعیت کے خطرناک کیمکلز رکھے گئے تھے۔

تیانجن کے ماحولیاتی دفتر کے مطابق دھماکے کی جگہ سے پانچ سو میٹر تک کے علاقے میں شدید زہریلی گیسوں بشمول سلفر ڈی آکسائیڈ، کاربن مونو آکسائیڈ اور نائیٹروجن آکسائیڈ کے اثرات پائے گئے ہیں لیکن حکام کے بقول یہ اجزا "قومی سطح پر وضع کردہ معیار" کے اندر ہی ہیں۔

سرکاری ذرائع ابلاغ "بیجنگ نیوز" پہلے یہ خبر دے چکے ہیں کہ جائے وقوع پر تقریباً 700 ٹن سوڈیم سائنائیڈ ذخیرہ تھا لیکن بعد ازاں اس خبر کو ہٹا دیا گیا۔

XS
SM
MD
LG