رسائی کے لنکس

logo-print

جنوبی ایشیا میں اسٹریٹیجک توازن چین کے مفاد میں ہے


(فائل فوٹو)

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کے دورہ چین کے دوران جاری ہونے والے مشترکہ اعلامیے میں چین نے پاکستان کی طرف سے خطے میں قیام امن اور بھارت کے ساتھ بات چیت کے ذریعے تعلقات بہتر بنانے کے سلسلے میں پاکستان کی کوششوں کو سراہا ہے ۔

اگرچہ اعلامیہ میں براہ راست مسئلہ کشمیر کا ذکر نہیں کیا گیا تاہم یہ کہا گیا ہے کہ جنوبی ایشیا کے دونوں ملکوں کے درمیان موجود تمام حل طلب تنازعات کی بات کرتے ہوئے ایک مستحکم جنوبی ایشیا کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔

چین کا یہ بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب پاکستان اور بھارت کے تعلقات انتہائی کشیدہ ہیں اور اسلام آباد اور نئی دہلی کے درمیان سفارتی تعلقات بھی کافی عرصے سے تعطل کا شکار ہیں ۔

واضح رہے کہ چین پہلے بھی کئی بار پاکستان اور بھارت پر اپنے معاملات بات چیت سے حل کرنے پر زور دیتا آرہا ہے۔

بین الاقوامی امور کے تجزیہ کار رسول بخش رئیس نے پیر کو وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ چین چاہتا ہے کہ وہ ایک عالمی طاقت کے طور پر ابھر کر سامنےآئے اور ان کے بقول یہ اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک جنوبی ایشیا کےخطےکے ممالک کےآپس کے تعلقات بہتر نا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ "ایک تاثر یہ بھی ہےکہ بھارت بھی خطے میں ایک طاقت ور ملک کے طور پر سامنے آنا چاہتا ہے۔

تجزیہ کار رسول بخش رئیس کے مطابق چین خطے میں کسی کشمکش کا حصہ نہیں بننا چاہتا ہےبلکہ وہ تمام ممالک کو ساتھ لے کر چلنے کا خواہش مند ہے

تاہم انہوں نے کہا کہ چین یہ بھی نہیں چاہتا کہ جنوبی ایشیا میں اسٹرٹیجک توازن پور ی طرح بھارت کے حق میں ہوں بلکہ وہ پاکستان کو بھی ایک مضبوط ملک کے طور پر دیکھنا کا متمنی ہے۔

رسول بخش نے مزید کہا کہ اگرچہ چین پا کستان اور بھارت کے درمیان ایک ثالث کا کردا ر ادا نہیں کر نا چاہتا لیکن بیجنگ کی خواہش ہے کہ اس خطے کا توزان اتنا نا بگڑے کہ پاکستان بالکل نظر انداز ہو جائے۔

مشترکہ اعلامیے میں چین کی طرف سے نیوکلیئر سپلائرز گروپ یعنی این ایس جی میں پاکستان کی رکنیت کی حمایت کا اظہار بھی کیا گیا ہے۔ یہ تنظیم جوہری ٹکنالوجی کی تجارت کو کنٹرول کرنے کے اقدامات کرتی ہے۔ چین کا کہنا تھا کہ عالمی سطح پر جوہری مواد کے عدم پھیلاؤ کی روک تھا م کے سلسلے میں پاکستان کی طرف سے اختیار کئے گئے اقدامات قابل تعریف ہیں اور چین این ایس جی میں پاکستان کی شمولیت کی بھرپور حمایت کرتا ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان اور بھارت نیوکلئیر سپلائیرز گروپ کی رکنیت حاصل کرنے کے متمنی ہیں۔ تاہم، اس بارے میں ابھی فیصلہ ہونا باقی ہے۔

مشترکہ علامیے میں چین نے دہشت گردی کے خاتمے کیلئے پاکستان کی کوششوں کی حمایت کرتے ہوئے پاکستان کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ چین کا کہنا تھا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف اقدامات کے ذریعے علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر قیام امن کیلئے اہم خدمات انجام دی ہیں۔

مشترکہ اعلامیہ میں چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے کے تحت ہونے والے سمجھوتوں کا تفصیلی ذکر کیا گیا ہے جن میں دونوں ملکوں کے وزرائے خارجہ کے سٹریٹجک ڈائیلاگ کے نظام کے قیام اور سماجی شعبوں سمیت متعدد شعبوں میں پاکستان اور چین کے درمیان تعاون کو فروغ دینا شامل ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG