رسائی کے لنکس

logo-print

چین: خود سوزی کے واقعات، ہزاروں تبتیوں کا احتجاجی مظاہرہ


مظاہرین آزادی، تبت کے لیے انسانی حقوق اور اپنے روحانی راہنما دلائی لاما کی جلا وطنی سے واپسی کا مطالبہ کر رہے تھے

تبتی نسل سے تعلق رکھنے والے مغربی چین کےصوبہٴ کنگھائی میں اتوار کو ہزاروں افراد نے ایک احتجاجی مظاہرہ کیا۔ شرکا چین کی پالیسیوں کے خلاف احتجاج کرنے والے ایک کسان سونم درگیال کی طرف سے ہفتے کے دِن کی گئی خودسوزی پرتعزیت کے لیے اکٹھے ہوئے تھے۔

عینی شاہدین نے وائس آف امریکہ کی تبتی سروس کو بتایا کہ احتجاجی مظاہرین آزادی، تبت کے لیے انسانی حقوق اور اپنے روحانی راہنما دلائی لاما کی جلا وطنی سے واپسی کا مطالبہ کر رہے تھے۔

چونتالیس برس کا کسان جو تین بچوں کا کفیل تھا، اُس نے کنگھائی میں رونگوو نامی قصبے کے وسطی علاقے میں اپنے آپ کو نذرِ آتش کر دیا تھا۔ اِس واقع سے ایک ہی ہفتہ قبل، جنوب مغربی چین کے صوبہ ٴسچوان میں ایک بھکشو نے خود سوزی کی تھی۔ اِس علاقے میں تبتی لوگ کثیر تعداد میں آباد ہیں۔

لندن میں قائم انسانی حقوق سے متعلق ’فری تبت‘ تنظیم نے ایک عینی شاہد کے حوالے سے بتایا ہے کہ اتوار کو ہونے والا احتجاج اِس مقام پر اب تک سب سے بڑا اجتماع تھا۔ لوگ گاؤں سے بڑی تعداد میں یہاں پہنچ رہے ہیں۔

تبتی علاقوں کے حق میں چین میں ریلی نکالنا کشیدگی کا باعث بنتا ہے، ایسے میں جب یہ ماہ اُن برسیوں کی یاد تازہ کرتا ہے جو تبت کےلیےمزید آزادی کی جدوجہد کے ایک حوالے کا درجہ رکھتی ہیں۔

گذشتہ سال کے دوران 29تبتیوں نے، جِن میں زیادہ تر بودھ بھکشو شامل تھے، اپنے آپ کو نذرِ آتش کر چکے ہیں۔ وہ اُن پالیسیوں کی طرف دھیان مبذول کرانا چاہتے تھے جِن پر چین عمل پیرا ہے اور جِن کا مقصد تبت کے مذہب اور ثقافت کو کچلنا ہے۔ اِن میں کم از کم 20افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

حکومت ِچین خودسوزی کے عمل کو بربریت اور دہشت گردی سے تعبیر کرتا ہے۔ وہ بیرون ملک گروہوں اور دلائی لاما پر علیحدگی کو ہوا دینے کا الزام دیتا ہے۔ چین خود سوزی کرنے والوں کو بدمعاش اور جرائم پیشہ عناصر قرار دیتا ہے۔

XS
SM
MD
LG