رسائی کے لنکس

logo-print

چین خودسوزی کے واقعات کی تحقیقات کرے، دلائی لاما


روری 2009ء سے اب تک کم از کم 70 تبتی باشندے چین کے مختلف علاقوں میں خود کو نذرِ آتش کرچکے ہیں جن میں سے 54 جھلس کر ہلاک ہوئے۔

چین کے علاقے تبت میں بسنے والے بدھ مت باشندوں کے روحانی پیشوا دلائی لاما نے چینی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ تبتی باشندوں کی جانب سے خود کو نذرِ آتش کرنے کے بڑھتے ہوئے واقعات کی تحقیقات کرے۔

تبتی رہنما نے پیر کو جاری کیے جانے والے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ خود سوزی کے حالیہ واقعات کی ذمہ داری ان پر عائد کرنے کے بجائے چینی حکومت کو چاہیے کہ وہ ان واقعات کی "سنجیدہ تحقیقات" کرے۔

یاد رہے کہ فروری 2009ء سے اب تک کم از کم 70 تبتی باشندے چین کے مختلف علاقوں میں خود کو نذرِ آتش کرچکے ہیں جن میں سے 54 جھلس کر ہلاک ہوئے۔ صرف گزشتہ ایک ہفتے کے دوران میں خود سوزی کے سات واقعات پیش آچکے ہیں۔

جلاوطن تبتیوں کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ لوگ تبت پر چین کے اقتدار کے خلاف اور اپنے روحانی پیشوا دلائی لاما کی جلا وطنی کے خلاف بطورِ احتجاج خودسوزی جیسا انتہائی قدم اٹھا رہے ہیں۔

گزشتہ ہفتے چینی حکومت کی جانب سے تبت کے لیے نامزد کردہ نائب گورنر لوبسانگ گیانکن نے الزام عائد کیا تھا کہ خود سوزی کے حالیہ واقعات کے پیچھے دلائی لاما کا ہا تھ ہے۔

اپنے بیان میں چینی عہدیدار نے کہا تھا کہ تبتی باشندوں کی بیرونی تنظیمیں اور دلائی لاما اپنے خفیہ سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے عام لوگوں کی جانیں قربان کر رہے ہیں۔

دریں اثنا پیر کو بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں جلاوطن تبتیوں کی ایک بڑی تعداد نے چین کے سفارت خانے کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا۔

مظاہرین میں سے کئی نے اپنے چہروں پر تبت کے سرخ اور زرد رنگ کے جھنڈے پینٹ کر رکھے تھے اور وہ اپنے آبائی علاقے پر چینی اقتدار کے خلاف نعرے لگارہے تھے۔ پولیس نے کئی مظاہرین کو حراست میں بھی لیا ہے۔

چینی حکومت ماضی میں جلا وطن تبتیوں کو اندرونِ ملک جاری خودسوزیوں پر مشتمل اس احتجاجی تحریک پر موردِ الزام ٹہراتی آئی ہے اور اس کا موقف رہا ہے کہ تبتیوں کا یہ احتجاج دراصل ان کی علیحدگی پسند تحریک کا ایک حصہ ہے۔
XS
SM
MD
LG