رسائی کے لنکس

logo-print

جنوبی بحیرہ چین میں تعمیر کا کام’جلد‘ مکمل ہو گا: چین


امریکہ چین کے جزائر کی تعمیرات کے منصبوبے کی کھل کر مخالفت کر رہا ہے جس کے بارے میں اب اس کا کہنا ہے کہ ایک اہم آبی گزرگاہ پر واقع غیرآباد چٹانوں والے علاقے کے 2,000 ایکڑ سے زائد رقبے کو جزیرے میں تبدیل کیا جا چکا ہے۔

چین نے کہا ہے کہ وہ جنوبی بحیرہ چین کے متنازع علاقے میں تعمیراتی کاموں کو جلد مکمل کر لے گا۔

چین نے اس عزم کا بھی اظہار کیا ہے کہ وہ ان متنازع جزیروں پر تعمیراتی کام کو جاری رکھے گا جو ان پر ملکیت کا دعویٰ رکھنے والے دوسرے ممالک کے ساتھ کشیدگی کا باعث ہے۔

چین کی وزرات خارجہ نے منگل کو جاری کیے جانے والے ایک بیان میں کہا کہ ’’چین چند ایک جزائر اور ننشاہ جزیرے کی چٹانوں پر جاری تعمیراتی کام کو آئندہ چند روز میں مکمل کر لے گا۔‘‘

بیان میں سپریٹلی جزائر کے لئے چینی نام استعمال کیا گیا ہے۔

چینی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری مختصر بیان میں اس کام کے مکمل ہونے کی حتمی تاریخ کا ذکر نہیں ہے۔ تاہم زمین کی بحالی کے کام کا یہ کہہ کر دفاع کیا گیا ہے کہ یہ کسی طرح بھی ’’قابل اعتراض نہیں‘‘ اور اس کے مقاصد فوجی نہیں بلکہ غیر فوجی ہیں۔

امریکہ چین کے جزائر کی تعمیرات کے منصبوبے کی کھل کر مخالفت کر رہا ہے جس کے بارے میں اب اس کا کہنا ہے کہ ایک اہم آبی گزرگاہ پر واقع غیرآباد چٹانوں والے علاقے کے 2,000 ایکڑ سے زائد رقبے کو جزیرے میں تبدیل کیا جا چکا ہے۔

خیال کیا جاتا ہے کہ جزیرے پر ہونے والے زیادہ تر تعمیراتی کام کا مقصد فوجی نوعیت کا ہے جس میں ابتدائی انتباہ کے لئے ریڈار کے نظام کی تنصیب، فوجی بیرک اور ایک فضائی پٹی کی تعمیر شامل ہے۔

امریکہ نے گزشتہ ماہ کہا تھا کہ چین نے یہاں آرٹلری گاڑیاں منتقل کی تھیں تاہم اب انہیں وہاں سے ہٹا لیا گیا ہے۔

امریکہ کے عہدیداروں کو خدشہ ہے کہ چین سپریٹلی جزائر پر اپنی ملکیت کے دعوے کو جتانے کے لئے غیر ملکی بحری جہازوں اور کشتیوں کی آمدورفت کو محدود کر سکتا ہے۔ فلپائن، ویتنام، ملائیشیا ، برونائی اور تائیوان بھی ان جزائر کے کچھ حصوں پر ملکیت کے دعویدار ہیں۔

امریکہ کا موقف ہے کہ وہ علاقے کی ملکیت پر طویل عرصے سے جاری تنازعات میں کسی فریق کی طرفداری نہیں کرے گا، تاہم خطے کے ایک وسیع علاقے میں موجود امریکی فوج نے چینی دعوؤں کو براہ راست چیلنج کرنے میں بے باکی کا اظہار کیا ہے۔

XS
SM
MD
LG