رسائی کے لنکس

چین: امریکی نگران طیارے کا راستہ روکنا قانونی اقدام تھا


چینی فضائیہ کے دو جے 10 لڑاکا طیارے تبت کے علاقے میں پرواز کر رہے ہیں۔ فائل فوٹو

جب یہ واقعہ ہوا تو اس وقت امریکی  طیارہ چین کے شہر چنگڈاؤ سے 150 کلو میٹر کے فاصلے پر بین الاقوامی پانیوں میں نگرانی کے مشن پر تھا۔

چین نے پچھلے ہفتے مشرقی بحیرہ چین پر امریکی نگران طیارے کی پرواز پر اعتراض کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے دو جے 10 لڑاکا جیٹ طیاروں نے امریکی نگران طیارے کا پیچھا کیا ور اسے اپنا راستہ بدلنے پر زور دیا۔

امریکی فوجی عہدے داروں نے کہا ہے کہ چین کے دو جے 10 لڑاکا طیاروں نے اتوار کے روز امریکی بحریہ کے ای پی 3 طیارے کے نیچے تیز رفتاری سے پرواز کی۔ پھر انہوں نے اپنی رفتار آہستہ کی اور ایک دم امریکی طیارے کے سامنے آ گئے، جس پر طیارے کے عملے کو ٹکر سے بچنے کے لیے حفاظتی اقدام کرنا پڑا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ایک چینی جیٹ طیارہ ہتھیاروں سے لیس تھا۔

جب یہ واقعہ ہوا تو اس وقت امریکی طیارہ چین کے شہر چنگڈاؤ سے 150 کلو میٹر کے فاصلے پر بین الاقوامی پانیوں میں نگرانی کے مشن پر تھا۔

منگل کے روز چین کی وزارت دفاع نے کہا کہ اس کے دو جنگی طیاروں کا عمل ، قانونی، ضروری اور پیشہ وارانہ تھا۔

چین کی وزارت دفاع نے امریکہ سے مطالبہ کیا کہ وہ غیر محفوظ ، غیر پیشہ وارانہ اور غیر دوستانہ نگران پروازیں ختم کر دے۔

منگل کے روز وزارت دفاع کی ویب سائٹ پر کہا گیا ہے کہ ان نگران پروازوں نے چین کی قومی سلامتی کے لیے خطرات پیدا کر دیے ہیں۔ اس سے چین اور امریکہ کے تعلقات اور سمندری اور فضائی تحفظ کو نقصان پہنچا ہے اور اس سے دونوں فریقوں کے پائلٹوں کی زندگیوں کے لیے خطرات کھڑے ہو گے ہیں۔

ماضی میں بھی چین کے ساحلی علاقوں میں اس طرح کی کارروائیوں سے دونوں ملکوں کے ہوا بازو ں کی زندگیوں کے لیے خطرات کھڑے ہو گئے تھے۔

سن 2001 میں ایک امریکی جاسوس طیارے کو جزیرہ ہنان میں جنگی طیاروں کی جانب سے راستہ روکے جانے اور پھر ایک طیارے سے ٹکرانے کے بعد اسے ہنگامی لینڈ نگ پر مجبور ہونا پڑا تھا۔ اس حادثے میں پائلٹ ہلاک ہو گیا تھا جب کہ چین نے عملے کے دیگر افراد کو حراست میں لیے جانے کے10 روز بعد امریکہ کے حوالے کر دیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG