رسائی کے لنکس

’مصنوعی جزائر پر چین کی عسکری سرگرمیاں ناقابل قبول‘


امریکہ کے وزیر دفاع جم میٹس

امریکہ کے وزیر دفاع جم میٹس نے ہفتہ کو کہا کہ چین کی طرف سے شمالی کوریا کو تحمل اختیار کرنے کی کوششیں امریکہ کے لیےحوصلہ افزا ہیں لیکن واشنگٹن کے لیے بحیرہ جنوبی چین کے جزیرے پر بیجنگ کے فوجی اقدامات قابل قبول نہیں ہیں۔

میٹس کا یہ بیان سنگاپور میں سالانہ سکیورٹی اجلاس 'شنگریلا ڈائیلاگ فورم' میں سامنے آیا۔ یہ بیان اس بات کا مظہر ہے کہ کس طرح امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ چین کے ساتھ مل کر شمالی کوریا کے میزائل اور جوہری پروگرام کو محدود کرنے کے ساتھ وہ بیجنگ کی بحیرہ جنوبی چین میں کارروائیوں سے نمٹنے کے درمیان ایک توازن برقرار رکھنا چاہتی ہے۔

میٹس نے کہا کہ شمالی کوریا کے معاملے پر چین کے ساتھ مل کر کام کرنے پر تیار ہیں تاہم انہوں نے کہا کہ امریکہ کے لیے چین کی طرف سے بحیرہ جنوبی چین پر مصنوعی جزیروں پر چین کی طرف سے ہتھیار اور فوجی اثاثے رکھنا نا قابل قبول ہے۔

میٹس نے کہا کہ "ہم مصنوعی جزیروں پر فوجی سرگرمیوں اور سمندری علاقوں پر جارحانہ دعوؤں کی مخالفت کرتے ہیں۔"

چین بحیرہ جنوبی چین پر اپنی ملکیت کا دعویٰ کرتا ہے جہاں سے ہر سال پانچ کھرب ڈالر کے تجارتی سامان کی نقل و حمل ہوتی ہے۔ دوسری طرف اس متنازع خطے پر برونائی، ملائیشیا، ویت نام، تائیوان اور فلپائن بھی ملکیت کا دعویٰ رکھتے ہیں۔

ٹرمپ نے شمالی کوریا کی کارروائیوں کو محدود کرنے کے لیے چینی صدر شی جنپنگ سے حمایت طلب کی ہے جس کی وجہ سے (امریکہ کے ) ایشیائی اتحادیوں میں یہ تشویش پیدا ہو گئی کہ واشنگٹن چین کو خطے میں دیگر علاقوں میں کھلی چھٹی دے سکتا ہے۔

میٹس نے کہا کہ شمالی کوریا کی طرف سے خطرہ "واضح اور موجود" ہے اور پیانگ یانگ نے جوہری ہتھیاروں کے (حصول کے لیے) اپنی رفتار کو بڑھا دیا ہے۔

امریکہ شمالی کوریا کے جوہری اور میزائل پروگرام کو محدود کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے اور پیانگ یانگ کی طرف سے جوہری ہتھیارو ں کے حامل میزائل بنانے کے عزم کی وجہ سے یہ معاملہ سکیورٹی کی اولین ترجیح بن گیا ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ چین پر بہت زیادہ دباؤ ڈال رہی ہے کہ وہ شمالی کوریا کی سرگرمیوں کو محدود کرے بصورت دیگر متنبہ کیا ہے کہ اگر شمالی کوریا اپنا جوہری پروگرام جاری رکھتا ہے تو اس سے نمٹنے کے کئی ایک راستے موجود ہیں۔

میٹس نے کہا کہ "ٹرمپ انتظامیہ کے لیے چین کا بین الاقوامی برادری کے ساتھ مل کر کام کرنا (جزیرہ نما کوریا سے) جوہری ہتھیاروں کو ختم کرنے کے عزم کی تجدید حوصلہ افزا ہے۔ "

انہوں نے مزید کہا کہ "بالآخر ہمیں یقین ہے کہ چین کو یہ احساس ہو گا کہ شمالی کوریا ایک اسٹریٹیجک بوجھ ہے نا کہ ایک اثاثہ۔"

امریکی وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ امریکہ شمالی کوریا پر نئے سفارتی اقتصادی دباؤ ڈالنے کے لیے خطے کے ممالک سے مل کر کام کرے گا۔

دوسری طرف جمعہ کو سلامتی کونسل نے شمالی کوریا کی طرف سے رواں سال اپنے بیلسٹک میزائل پروگرام کو فروغ دینے کی کوششوں پر متفقہ طور پر نئی پابندیوں کے حق میں ووٹ دیا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG