رسائی کے لنکس

logo-print

چین اور امریکہ کے درمیان تجارتی معاہدے پر دستخط


صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین سے تجارتی معاہدے کو اپنی تجارتی پالیسی اور امریکہ کی اقتصادی کامیابی قرار دیا۔

امریکہ اور چین کے درمیان لگ بھگ دو برس سے جاری تجارتی جنگ کا بالاخر خاتمہ ہوگیا اور دونوں ملکوں نے نئے تجارتی معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔

واشنگٹن میں بدھ کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چین کے نائب وزیر اعظم لی ہی نے معاہدے پر دستخط کیے۔ دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی معاہدے کے بعد اہم غیرملکی اسٹاک مارکیٹوں میں کاروباری سرگرمیوں میں ریکارڈ تیزی دیکھی گئی۔

دنیا کی دو بڑی معاشی طاقتوں کے درمیان طے پانے والے نئے معاہدے کے تحت چین امریکہ سے دو برس کے دوران 200 بلین ڈالر سے زائد کی مصنوعات اور سروسز خریدے گا۔ جس کے جواب میں امریکہ چین کی مصنوعات پر عائد کر دہ ٹیکسز میں نرمی کرے گا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین سے تجارتی معاہدے کو اپنی تجارتی پالیسی اور امریکہ کی اقتصادی کامیابی قرار دیا۔

تجارتی معاہدے پر دستخط کی تقریب کے دوران چینی حکام سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ہم ان غلطیوں کو درست کر رہے ہیں جو ماضی میں کی گئی تھیں۔ تاکہ مستقبل میں معاشی انصاف اور امریکی مزدوروں، کسانوں اور خاندانوں کے ساتھ انصاف کیا جائے۔

نئے تجارتی معاہدے پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چین کے نائب وزیر اعظم نے دستخط کیے۔
نئے تجارتی معاہدے پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چین کے نائب وزیر اعظم نے دستخط کیے۔

چین کے نائب وزیر اعظم نے صدر شی جن پنگ کا بیان پڑھ کر سنایا جس میں انہوں نے تجارتی معاہدے کو سراہتے ہوئے کہا تھا کہ دونوں ملک مذاکرات کے ذریعے دوریاں کم کر سکتے ہیں۔

وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ تجارتی معاہدہ کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ چین امریکہ سے دو برس میں کم از کم 200 بلین ڈالر کی اضافی مصنوعات اور سروسز خریدے گا اس سے قبل 2017 میں اس کی لاگت 186 بلین ڈالر تھی۔

سمجھوتے کے تحت چین امریکہ سے توانائی کے شعبے میں 54 بلین ڈالر، مینوفیکچرنگ کے شعبے میں 78 بلین ڈالر، ذرعی مصنوعات کی مد میں 32 بلین ڈالر اور سروسز کی مد میں 38 بلین ڈالر سے زائد کی خریداری کرے گا۔

چین کے نائب وزیر اعظم کے مطابق آئندہ دو برسوں کے دوران چینی کمپنیاں 40 بلین ڈالر تک کی امریکی زرعی مصنوعات خریدیں گی اور یہ خریداری مارکیٹ کی صورت حال کو دیکھتے ہوئے کی جائے گی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG