رسائی کے لنکس

logo-print

جی 20 کانفرنس کے بعد چین پر مزید ٹیکس لگانے کا عندیہ


صدر ٹرمپ نے پیر کے روز کہا ہے کہ اگر اس مہینے کے آخر میں گروپ 20 کے سربراہ اجلاس کے موقع پر ان کا چین کے صدر سے تجارتی معاہدے کے سلسلے میں اتفاق نہ ہوا تو وہ چین کے خلاف مزید محصولات عائد کرنے کے لیے تیا ر ہیں۔

پچھلے مہینے واشنگٹن میں چین اور امریکہ کے درمیان دو روزہ تجارتی مذاكرات بے نتیجہ رہے تھے جس کے بعد سے صدر ٹرمپ متعدد بار یہ کہہ چکے ہیں انہیں توقع ہے کہ 28 اور 29 جون کو جاپان کے شہر اوساکا میں جی 20 سربراہ کانفرنس کے موقع پر ان کی چین کے صدر زی جن پنگ سے ملاقات ہو گی۔ تاہم چین نے ایسی کسی ملاقات کے طے ہونے کی تصدیق نہیں کی۔

صدر ٹرمپ نے پچھلے ہفتے کہا تھا کہ وہ دنیا کی سب سے بڑی معیشتوں کے سربراہوں سے ملاقات کے بعد یہ فیصلہ کریں گے کہ آیا انہیں کم ازکم 300 ارب ڈالر مالیت کے چینی سامان پر محصولات لگانے ہیں یا نہیں۔

پیر کے روز سی این بی سی کے ساتھ انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا تھا کہ اب بھی ان کا خیال ہے کہ چین کے صدر زی سربراہ اجلاس میں شریک ہوں گے۔ ان سے سوال کیا گیا اگر چین کے صدر وہاں نہ آئے تو کیا امریکہ چین کے سامان پر نئے محصولات لگا دے گا تو ان کا جواب تھا، ہاں۔

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ان کے صدر زی کے ساتھ بہت اچھے تعلقات ہیں۔ اور بیجنگ امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدہ کرنا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی معاہدہ نہ ہوا تو آپ چین سے تجارت پر محصولات میں اضافہ ہوتا ہوا دیکھیں گے۔

خبررساں ادارے رائٹرز کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکہ چین کے ساتھ تجارت میں بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کا خواہاں ہے جس میں ٹیکنالوجی کی زبردستی منتقلی اور امریکی تجارتی رازوں کی چوری کی روک تھام شامل ہیں۔ امریکہ یہ بھی چاہتا ہے کہ چین اپنی سرکاری کمپنیوں کو سبسڈی دینا بند کر دے اور امریکی کمپنیوں کو چین کی مارکیٹ تک بہتر رسائی فراہم کرے۔

صدر ٹرمپ نے 10 مئی کو چین کے 200 ارب مالیت کے سامان تجارت پر 25 فی صد تک محصولات عائد کر دیے تھے اور 300 ارب مالیت کی مزید چینی درآمدات پر اضافی محصولات عائد کرنے کی جانب پیش رفت شروع کر دی تھی۔ چین نے اس کے جواب میں 60 ارب ڈالر کے امریکی سامان پر محصولات میں اضافہ کر دیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG