رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ اور چین کی موجودہ تجارتی جنگ کے منفی اثرات محدود رہیں گے، تجزیہ کار


چین بڑی مقدار میں امریکہ سے غذائی اشیا درآمد کرتا ہے۔

چین نے امریکہ سے درآمد کی جانے والی 128 اشیا پر 25فیصد تک اضافہ کردیا ہے۔ چین نے یہ اضافہ بظاہر امریکہ کی جانب سے المونیم اسٹیل کی درآمد پر عائد محصولات میں گزشتہ ماہ کئے جانے والے اضافے کے جواب میں کئے ہیں۔

پروگرام جہاں رنگ میں میزبان قمر عباس جعفری سے گفتگو کرتے ہوئے شکاگو یونیورسٹی کے پروفیسر ظفر بخاری نے کہا کہ اس صورت حال یا تجارتی جنگ کا اثر دونوں طرف کے صارفین پر پڑے گا ۔ چین میں امریکی مصنوعات مہنگی ہو جائیں گی اور امریکہ میں چینی درآمدات کی قیمت بڑھ جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ ٹریڈ وار کا یہ جو ماڈل ہے اس کا کوئی زیادہ اثر نہیں پڑے گا۔ اتنا زیادہ نہیں کہ یہ ٹریڈ وار کسی کولڈ وار یا سرد جنگ میں تبدیل ہو جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ دونوں طرف کی بزنس لابیز حکومتوں کو اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کے لیے مجبور کر دیں گی۔

تجارتی عدم توازن کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عدم توازن میں بہتری اس لئے آ نے کی امید نہیں ہے کیونکہ امریکہ میں بنیادی صارفین کی اشیاء باہر سے تیار ہو کر آنا ہی امریکہ کی معیشت کے لئے بہتر ہے کیونکہ انکی لاگت کم ہوتی ہے اور اس سے امریکی صارفین کا خرچ کم ہوتا ہے اور اس بچت کے نتیجے میں امریکہ کی مالی اور مالیاتی پالیسیوں میں بہتری آتی ہے۔۔ ان کا کہنا تھا کہ چین سے تجارت اور وہاں سے سستی مصنوعات کی درآمد سے کا امریکی معیشت کو فائدہ حاصل ہوتا ہے۔

مزید تفصیلات کے لیے اس لنک پر کلک کریں۔

چین اور امریکہ کی تجارتی جنگ کے ممکنہ اثرات
please wait

No media source currently available

0:00 0:04:11 0:00

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG