رسائی کے لنکس

logo-print

سمندری تنازع پر چین اور ویتنام کا اقوام متحدہ سے رجوع


دونوں ملکوں نے بان کی مون سے مطالبہ کیا کہ وہ یہ دستاویزات اقوام متحدہ کے اراکین میں تقسیم کروائیں۔

جنوبی بحیرہ چین سے متعلق تنازع کے حل کی غرض سے چین اور ویت نام اقوام متحدہ کے سامنے اپنا اپنا موقف پیش کرنے جا رہے ہیں۔

بیجنگ کی طرف سے عالمی تنظیم کے سربراہ بان کی مون کو دستاویزات ارسال کی گئی ہیں جن میں ویتنام پر الزام لگایا گیا ہے کہ وہ ’’غیر قانونی اور زبردستی‘‘ سمندر میں چینی کمپنیوں کی طرف سے تیل کی تلاش کے لیے کی جانے والی کارروائی میں خلل ڈال رہا ہے۔

اقوام متحدہ میں چین کے نائب سفیر وانگ من نے خط میں کہا کہ ویت نام چین کی خود مختاری کی خلاف ورزی رہا ہے اور چینی مزدوروں کے لیے ’’شدید خطرہ‘‘ بن گیا ہے۔

بعد میں ویت نام کی جانب سے بھی کہا گیا کہ انہوں نے بھی اقوام متحدہ کو خط بھیجا ہے جس میں مطالبہ کیا گیا کہ بیجنگ فوری طور پر سمندر میں تیل کی تلاش کے لیے ہونے والے کام کو روکے کیونکہ یہ ہنوئی کی خود مختاری کے خلاف ہے۔

انہوں نے چین سے مذاکرات کے لیے ’’ماحول بنانے‘‘ کا بھی مطالبہ کیا جس سے ’’صورتحال میں ٹھہراؤ لایا جا سکے اور دونوں ملکوں کے درمیان سمندری مسائل پر کنٹرول کیا جائے۔‘‘

دونوں خطوط میں بین الاقوامی معاہدوں کا تذکرہ کیا گیا جن میں اقوام متحدہ کے 1982 کا سمندری قوانین پر مشتمل ایک میثاق بھی شامل ہے۔

انہوں نے بان کی مون سے مطالبہ کیا کہ وہ یہ دستاویزات اقوام متحدہ کے اراکین میں تقسیم کروائیں۔

چین نے گزشتہ ماہ جنوبی بحیرہ چین میں پاراسل جزیرے سے کچھ دور تیل نکانے کے لیے سرگرمیوں کا آغاز کیا جبکہ ویت نام کا کہنا ہے کہ یہ مقام ان کے خصوصی اقتصادی زون میں شامل ہے۔

اسے چین کر طرف سے سمندر میں اپنے دعوؤں کو بڑھانے کی بے باک ترین کوشش کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ جنوبی بحیرہ چین میں بیجنگ کے فلپاین، ملائیشیا، برونائی اور تائیوان سے تنازعات ہیں۔

تیل نکالنے سے متعلق تنازع نے چین اور ویت نام کے تعلقات کو بری طرح متاثر کیا ہے اور بعض مبصرین اس خدشے کا اظہار بھی کرتے ہیں کہ کسی بھی قسم کی حادثاتی جھڑپ سے صورتحال کنٹرول سے باہر جا سکتی ہے۔


اس تنازع پر گزشتہ ماہ ویت نام میں چین مخالف مظاہرے بھی ہوئے جس میں ایک ٹولے نے چینی باشندوں کی فیکٹریاں جلا دیں۔ اس واقعہ میں چار افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے۔
XS
SM
MD
LG