رسائی کے لنکس

دلائی لامہ کے مجوزہ دورے پر چین کی بھارت کو وارننگ

  • سہیل انجم

فائل

چین نے بودھ مذہبی رہنما دلائی لامہ کے بھارتی ریاست اروناچل پردیش کے مجوزہ دورے پر بھارتی حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے متنازع سرحدی علاقے میں امن اور دو طرفہ تعلقات کو شدید نقصان پہنچے گا۔

چین نے بودھ مذہبی رہنما دلائی لامہ کے بھارتی ریاست اروناچل پردیش کے مجوزہ دورے پر بھارتی حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے متنازع سرحدی علاقے میں امن اور دو طرفہ تعلقات کو شدید نقصان پہنچے گا۔

چینی وزارت خارجہ کے ترجمان جینگ شوانگ نے جمعے کو بیجنگ میں کہا کہ چین کو اس اطلاع پر شدید تشویش ہے کہ بھارت نے دلائی لامہ کو آئندہ ماہ اروناچل پردیش کے دورے کی اجازت دی ہے۔

چین کا دعویٰ ہے کہ اروناچل پردیش تبت کا حصہ ہے جو چین کے زیرِانتظام ایک نیم خود مختار علاقہ ہے۔ چین کی حکومت ماضی میں بھی بھارت کے سیاسی رہنماؤں، حکومتی اہلکاروں اور سفارت کاروں کے ارونا چل پردیش کے دوروں پر مستقل اعتراض کرتی آئی ہے۔ بھارت چین کے اس دعوے کو تسلیم نہیں کرتا۔

چین کے انتباہ کے باوجود بھارتی حکومت کے نمائندے مارچ میں اروناچل پردیش کے دور ےکے دوران دلائی لامہ سے ملاقات کریں گے۔

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت سابقہ حکومتوں کے برخلاف تبتی مذہبی رہنما سے عوامی سطح پر اپنے رابطوں کو مسلسل بڑھا رہی ہے۔ جب کہ سابق حکومتیں چین کی ناراضی کے پیش نظر دلائی لامہ کے ساتھ کھلے عام رابطوں میں ہچکچاہٹ کا شکار رہی تھیں۔

بھارتی حکومت کے وزیر مملکت برائے داخلہ کرن رجیجو نے جو خود بھی اروناچل پردیش سے تعلق رکھتے ہیں، حکومت کے رویے میں تبدیلی کا اعتراف کیا ہے۔ وہ تبت سے متعلق معاملات پر وزیر اعظم نریندر مودی کے نمائندے ہیں۔

رجیجو نے خبر رساں ادارے رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ دلائی لامہ ارونا چل پردیش میں واقع توانگ کی بودھ خانقاہ کا آٹھ سال بعد دورہ کر رہے ہیں اور وہ وہاں ان سے ملاقات کریں گے۔

انھوں نے مزید کہا کہ دلائی لامہ ایک مذہبی رہنما کی حیثیت سے ارونا چل پردیش جا رہے ہیں اور ان کو روکنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔

چین نے گزشتہ سال اکتوبر میں بھی اس وقت تشویش کا اظہار کیا تھا جب بھارت کی مرکزی حکومت نے اروناچل پردیش کی حکومت کی جانب سے تبتی روحانی رہنما کو دورے کی دعوت دینے کی اجازت دی تھی۔

چین کی حکومت دلائی لامہ کو ایک علیحدگی پسند رہنما قرار دیتی ہے اور اس کا الزام ہے کہ دلائی لامہ تبت کی چین سے علیحدگی کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔

چینی وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ بھارت اس معاملے کی سنگینی سے پوری طرح واقف ہے لیکن اس کے باوجود اس نے دلائی لامہ کو دورے کی اجازت دی ہے جس سے چین بھارت تعلقات کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ ایسے وقت میں جب جنوبی ایشیا میں چین اپنے اقتصادی اور سیاسی اثرات میں اضافہ کر رہا ہے، مودی حکومت دلائی لامہ کے دورے کو سفارتی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔

دسمبر میں بھارتی صدر پرنب مکھرجی نے اپنی سرکاری رہائش گاہ پر دیگر نوبیل انعام یافتگان کے ساتھ دلائی لامہ کی بھی میزبانی کی تھی جو گزشتہ 60 برسوں میں دلائی لامہ کے ساتھ کسی بھارتی سربراہِ مملکت کی پہلی باضابطہ ملاقات تھی۔

XS
SM
MD
LG