رسائی کے لنکس

logo-print

چین کے بحری دعوے ’مبہم اور پریشان کُن‘ ہیں: امریکہ


متعدد ایشیائی ممالک چین پر الزام عائد کرتے ہیں کہ وہ اپنی بڑھتی ہوئی فوجی طاقت کے بل بوتے پر اپنے متنازع بحری دعووں کو جارحانہ طور پر پروان چڑھانے اور علاقے کے قدرتی وسائل پر قابض ہونے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے

ایسے میں جب امریکہ اور چین بدھ سے بیجنگ میں سالانہ مذاکرات کی تیاریوں میں مصروف ہیں، ایک امریکی اہل کار نے جنوبی بحیرہٴچین پر چین کے متنازع دعووں کو ’پریشان کُن‘ قرار دیا ہے۔

بات چیت میں ممکنہ طور پر چین کےاپنے ہمسایوں کے ساتھ سمندری حدود سے متعلق تناؤ کا معاملہ مرکزی حیثیت کا حامل ہوگا، جس میں امریکی وفد کی سربراہی وزیر خارجہ جان کیری اور وزیر خزانہ، جیک لیو کریں گے۔

کیری کے شریکِ سفر ایک سینئر امریکی عہدے دار نے منگل کے روز بتایا کہ جنوبی بحیرہٴچین پر چین کے سخت گیر دعوے انتہائی مبہم ہیں، جو تناؤ کا باعث ہیں۔


امریکہ کا کہنا ہے کہ چین کے اپنے ہمسایوں کے ساتھ تنازعات کے معاملے پر وہ کسی کی طرف داری نہیں کرتا، حالانکہ امریکہ نے چین کے متعدد متحارب دعوے داروں کے ساتھ سفارتی اور فوجی تعاون بڑھا رکھا ہے۔

متعدد ایشیائی ممالک چین پر الزام عائد کرتے ہیں کہ وہ اپنی بڑھتی ہوئی فوجی طاقت کے بل بوتے پر اپنے متنازع بحری دعووں کو جارحانہ طور پر پروان چڑھانے اور علاقے کے قدرتی وسائل پر قابض ہونے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔

یہ دو روزہ بات چیت، جسے امریکہ چین اسٹریٹجک اور معاشی مکالمے کےنام سے بھی جانا جاتا ہے، اِس میں شمالی کوریا کے جوہری ہتھیاروں کے خطرات سے نمٹنے کے طریقوں پر بھی دھیان مرکوز رہے گا۔


امریکی عہدے دار نے امریکہ اور چین کے خیالات میں رفتہ رفتہ پیدا ہونے والی یکسانیت کو سراہتے ہوئے کہا کہ دونوں ملکوں کو اس بات کی اہمیت اور ضرورت کا ادراک ہونے لگا ہے کہ شمالی کوریا جوہری ہتھیاروں سے پاک ہونے کے لیے ناقابل واپسی اقدام کرے۔

چین شمالی کوریا کا واحد اہم اتحادی ہے۔ امریکہ اس بات کا کوشاں رہا ہے کہ چین کو قائل کیا جائے کہ وہ اپنا معاشی اور سفارت کاری کا اثرو رسوخ استعمال کرتے ہوئے شمالی کوریا کے جوہری اور میزائل پروگراموں کو روکنے میں کامیاب ہو سکے۔

مزید یہ کہ بیجنگ میں ہونے والی بات چیت کے دوران امریکی اہل کار ممکنہ طور پر سائبر سکیورٹی کا حساس معاملہ بھی اٹھائیں گے۔


خفگی کا اظہار کرتے ہوئے، چین جاسوسی کے الزامات کو مسترد کرتا رہا ہے۔

چین نے امریکہ پر اپنے انداز کے الزامات لگاتے ہوئے کہا ہے کہ سکیورٹی کے امریکی ادارے کے سابق اہل کار، ایڈورڈ سنوڈن کی طرف سے کیے گئے انکشافات ثابت کرتے ہیں کہ امریکہ بھی جاسوسی کی نامناسب کارروائیوں میں ملوث ہے۔

XS
SM
MD
LG