رسائی کے لنکس

logo-print

چین: ذرائع ابلاغ پر عائد پابندیوں کے خلاف احتجاج جاری


جریدے کے دفتر کے باہر جمع ہونے والے مظاہرین کا 'کمیونسٹ پارٹی' کے حامیوں کے ایک مختصر سے گروہ کے ساتھ تصادم بھی ہوا

چین کے جنوبی صوبے میں آزادی اظہار کے حق میں ہونے والے ایک مظاہرے کے شرکا اور حکمران جماعت 'کمیونسٹ پارٹی' کے حامیوں کے درمیان تصادم ہوا ہے۔

جنوبی شہر گوانگزو سے شائع ہونے والے ترقی پسند جریدے "سدرن ویکلی' کے دفتر کے باہر منگل کو مسلسل دوسرے روز بھی سیکڑوں مظاہرین جمع ہوئے جو میڈیا کی آزادی کے حق میں نعرے بلند کر رہے تھے۔

یہ وہی جریدہ ہے جس سے منسلک بعض صحافیوں نے ادارتی معاملات میں حکومت کی مبینہ مداخلت کے خلاف ہڑتال کر رکھی ہے۔

جریدے کے دفتر کے باہر جمع ہونے والے مظاہرین کا 'کمیونسٹ پارٹی' کے حامیوں کے ایک مختصر سے گروہ کے ساتھ تصادم بھی ہوا جو ہاتھوں میں قومی پرچم اٹھائے وہاں پہنچا تھا۔

مظاہرین صوبہ گوانگ ڈونگ کے صوبائی وزیرِ اطلاعات کی برطرفی کا مطالبہ کر رہے ہیں جن کی ایما پر سالِ نو کے موقع پر شائع ہونے والے 'سدرن ویکلی' کے شمارے کا اداریہ سینسر کردیا گیا تھا۔

صحافیوں کا کہنا ہے کہ مذکورہ اداریے میں عوام کو مزید آئینی حقوق دینے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ صحافیوں کے مطابق مذکورہ اداریے کہ جگہ جریدے میں جو اداریہ شائع کیا گیا تھا اس میں حکمران جماعت کی کامیابیوں کی ستائش کی گئی تھی۔

گزشتہ کئی برسوں میں یہ پہلا موقع ہے کہ چین میں صحافیوں اور عوام کے ایک حلقے نے یوں کھلم کھلا حکومت کی جانب سے عائد سینسر شپ کے خلاف صدائے احتجاج بلند کی ہے۔

جریدے سے منسلک صحافیوں کے احتجاج کے بعد چین کی کئی معروف سماجی شخصیات، صحافیوں اور دیگر اہم لوگوں نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر جریدے کے حق میں بیانات جاری کیے ہیں جس سے چینی حکومت پر اپنی سینسر شپ میں نرمی لانے کے لیے دبائو پڑ رہا ہے۔

واقعے کے بعد دنیا کی توجہ ایک بار پھر چین میں آزادی اظہار پر عائد قدغنوں پر مرکوز ہوئی ہے جب کہ چینی شہریوں کی ایک بڑی تعداد نے بھی آن لائن اس موضوع پر گرما گرم بحث چھیڑی ہوئی ہے۔
XS
SM
MD
LG