رسائی کے لنکس

افغانستان کے ساتھ کشیدگی، چینی وزیرِ خارجہ پاکستان آئیں گے


(فائل فوٹو)

پاکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان نفیس ذکریا نے تصدیق کی ہے کہ چین کے وزیر خارجہ وانگ یی رواں ہفتے پاکستان کا دورہ کریں گے جب کہ خطے کے اس دورے کے دوران وہ افغانستان بھی جائیں گے۔

رواں ماہ کے اوائل میں یہ خبریں سامنے آئی تھیں کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ کشیدگی میں کمی کے لیے چینی وزیر خارجہ دونوں ممالک کا دورہ کریں گے۔

وزارت خارجہ کے ترجمان نفیس ذکریا نے جمعرات کو ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں بتایا کہ ’’اس اختتام ہفتہ یہ دورہ ہو رہا ہے اور اس کا مقصد افغانستان میں امن و استحکام لانا ہے۔‘‘

نفیس ذکریا نے کہا کہ پاکستان اور چین نے دیگر ممالک کے ساتھ مل کر افغانستان میں امن و استحکام کے لیے پہلے بھی کام کیا ہے اور اُن کے بقول خطے اور افغانستان کی سکیورٹی کے حوالے سے یہ دورہ بہت اہم ہے۔

پاکستان اور افغانستان کے دوطرفہ تعلقات میں تناؤ شکار ہیں اور کابل حکومت کی طرف سے اپنے ملک میں ہونے والے دہشت گرد حملوں میں پاکستان کے ملوث ہونے کا الزام لگایا جاتا رہا ہے۔

گزشتہ ماہ کابل کے سفارتی علاقے میں ایک طاقتور بم دھماکے میں کم از کم 150 افراد ہلاک اور لگ بھگ 400 زخمی ہو گئے تھے۔

بم دھماکے کے بعد افغان انٹیلی جنس ایجنسی (این ڈی ایس) نے اس کا الزام افغان طالبان کے گروپ حقانی نیٹ ورک پر عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستانی فوج کے انٹیلی جنس ادارے ’آئی ایس آئی‘ نے اس حملے کی منصوبہ بندی کی۔

تاہم پاکستان کی طرف سے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دے کر مسترد کر دیا گیا تھا۔

حالیہ ہفتوں میں پاکستانی عہدیداروں کے یہ بیانات بھی سامنے آتے رہے ہیں کہ الزام تراشی مسائل کا حل نہیں ہے اور اس سے اجتناب کرتے ہوئے دوطرفہ تعاون سے مسائل کا حل تلاش کرنا چاہیے۔

چین کا ثالثی کا کردار

پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی میں کمی میں چین کا کیا مفاد ہے اور بیجنگ کا کردار کتنا اہم ہو سکتا ہے، اس بارے میں سابق سفارت کار رستم شاہ مہمند نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ چین اپنے اقتصادی اور مواصلاتی منصوبوں کی کامیابی کے لیے خطے میں امن کی خاطر یہ کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔

’’چین ون بیلٹ ون روڈ اور سی پیک کے حوالے سے چاہتا ہے کہ افغانستان میں دیرپا امن قائم ہو جائے اور اس امن کے لیے وہ اپنا سیاسی اور ثالثی کا کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔‘‘

رستم شاہ مہمند کا کہنا ہے کہ ’’چین کا کردار بہت اہم ہے، اس کو کچھ استحکام مل جائے تو اُمید ہے کہ اس کے ذریعے امریکہ، افغان حکومت اور طالبان کے درمیان بات چیت کے راستے نکل سکتے ہیں۔‘‘

پاک افغان سرحد پر باڑ کی تعمیر اور افغانستان کے تحفظات

واضح رہے کہ پاکستان افغانستان سے ملحقہ اپنی لگ بھگ 2600 کلومیٹر طویل سرحد پر باڑ لگانے کے کام کا مرحلہ وار آغاز کر چکا ہے۔

رواں ہفتے ہی پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا تھا کہ پہلے مرحلے میں قبائلی علاقوں باجوڑ، مہمند اور خیبر ایجنسی میں پاک افغان سرحد پر باڑ لگائی جا رہی ہے، کیوں کہ ان علاقوں میں دشوار گزار راستوں کو استعمال کرتے ہوئے شدت پسندوں کی آمد و رفت کے امکانات زیادہ ہیں۔

جب کہ دوسرے مرحلے میں دوطرفہ سرحد کے بقیہ حصے بشمول بلوچستان میں پاک افغان سرحدی علاقوں میں باڑ لگائی جائے گی۔

افغانستان نے سرحد پر باڑ لگانے کے اقدام پر کئی بار تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

اس بارے میں پاکستانی وزارت خارجہ کے ترجمان نفیس ذکریا نے کہا کہ سرحد پر باڑ لگانا انسداد دہشت گردی کے حکمت عملی کا ایک حصہ ہے اور اُن کے بقول پاکستان سمجھتا ہے کہ سرحد کے آر پار دہشت گردوں کی آمد و رفت روکنے کے لیے دوطرفہ سرحد کی موثر نگرانی بہت اہم ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG