رسائی کے لنکس

logo-print

چین: کیمیائی مواد میں دھماکوں سے ہلاکتوں کی تعداد 112 ہو گئی


چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی اس سے قبل یہ کہہ چکی ہے کہ ان دھماکوں کی وجہ سے تقریباً 6,300 افراد کو نقل مکانی کرنی پڑی جبکہ تقریباً 721 افراد زخمی ہوئے۔

چین کے ساحلی شہر تیانجن میں ایک کیمیائی مواد کے گودام میں تین روز قبل ہونے والے دھماکوں سے ہلاکتوں کی تعداد 112 تک پہنچ گئی ہے جبکہ 95 افراد اب بھی لاپتا ہیں۔

چین کی سرکاری خبررساں ایجنسی شینخوا نے اتوار کو کہا کہ لاپتا ہونے والوں میں 85 فائر فائٹرز بھی ہیں۔

چین کے صدر شی جنپنگ نے حکام پر تحفظ کے اقدامات کو بہتر بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ "ہمیں اس سے سبق سیکھنا چاہیئے جس کی قیمت خون سے ادا کی گئی ہے۔"

ہفتے کو چینی حکام نے دھماکے کے مقام کے نزدیک ایک اسکول میں پناہ لینے والے مقامی افراد کو اس وقت ایک محفوظ مقام پر منتقل کیا جب ہوا کا رخ تبدیل ہونے سے اس بات کا خدشہ لاحق ہو گیا کہ زہریلے کیمیائی ذرات اڑ کراندرونی علاقے میں داخل ہو سکتے ہیں۔

ذرائع ابلاغ میں آنے والی رپورٹوں سے ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ کتنے افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے تاہم حکام کے طرف سے یہ حکم نامہ اس وقت جاری کیا گیا جب دھماکے کے مقام پر ایک بار پھر آگ بھڑک اٹھی۔

شینخوا خبر رساں ایجنسی کے مطابق جس گودام میں آگ لگی وہ خاص طور پر کیمیائی مواد کو رکھنے کے لیے بنایا گیا تھا۔ ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ آیا زہریلی آلودگی کا خطرہ اب بھی موجود ہے یا نہیں۔

ان دھماکوں کی وجہ سے تقریباً 6,300 افراد کو نقل مکانی کرنی پڑی جبکہ تقریباً 721 افراد زخمی ہوئے۔

تیانجن شہر کی آبادی لگ بھگ ڈیڑھ کروڑ ہے اور ان دھماکوں کو کئی کلومیٹر دور واقع رہائشی عمارتوں کے مکینوں نے بھی محسوس کیا۔

XS
SM
MD
LG