رسائی کے لنکس

کیا شی جن پنگ تا حیات چین کے صدر ہوں گے؟


چینی صدر شی جن پنگ۔ فائل فوٹو

’’نئی آئینی ترمیم کے بعد وہ اصولی طور پر زمبابوے کے رابرٹ موگابے سے زیادہ عرصے تک اقتدار میں رہ سکتے ہیں۔‘‘

چین کی حکمران جماعت کمیونسٹ پارٹی نے اتوار کے روز آئینی شق میں ترمیم کی تجویز دی ہے جس میں کسی شخص کی زیادہ سے زیادہ دو مرتبہ صدر رہنے کی حد ختم ہو جائے گی اور یوں موجودہ چینی صدر شی جن پنگ کے غیر معینہ مدت تک صدر رہنے کی راہ ہمووار ہو جائے گی۔

پانچ برس سے زیادہ پہلے صدر بننے کے بعد شی جن پنگ نے حکمران جماعت میں متعدد بنیادہ تبدیلیاں کیں جن میں بدعنوانی کے نام پر اہم رہنماؤں کی حیثیت ختم کرنا بھی شامل ہے۔

چینی نیوز ایجنسی شن ہوا نے بتایا ہے کہ یہ تجویز کمیونسٹ پارٹی کی مرکزی پارٹی نے پیش کی ہے۔ اس تجویز میں نائب صدر کی مدت کی حد ختم کرنا بھی شامل ہے۔

آئین کی موجودہ شرط کے مطابق 64 سالہ شن جن پنگ کو اپنی پانچ سال کی دو مدتوں کے مکمل ہونے کے بعد عہدہ چھوڑ دینا ہو گا۔ اُنہیں 5 مارچ کو پارٹی کے سالانہ اجلاس میں دوسری مدت کیلئے صدر چنا جائے گا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اُن کے انتخاب کا عمل محض رسمی ہو گا اور وہ یقینی طور پر دوبارہ صدر منتخب ہو جائیں گے کیونکہ پارٹی پر اُن کی گرفت خاصی مضبوط ہے۔

اُنہوں نے حکمران کمیونسٹ پارٹی اور چینی مسلح افواج کے سربراہ کے طور پر اپنی دوسری مدت کا آغاز گزشتہ سال اکتوبر میں کیا تھا۔

معروف تاریخ دان اور سیاسی مبصر ژانگ کی فان کا کہنا ہے کہ صدر شی کی مدت صدارت کی حد ختم کرنے کی خبر غیر متوقع نہیں ہے۔ تاہم اس بات کا اندازہ لگانا مشکل ہے کہ وہ کتنے عرصے تک چین کے صدر رہیں گے۔ نئی آئینی ترمیم کے بعد وہ اصولی طور پر زمبابوے کے رابرٹ موگابے سے زیادہ عرصے تک اقتدار میں رہ سکتے ہیں لیکن یہ کہنا مشکل ہے کہ مستقبل میں حالات کیا رخ اختیار کرتے ہیں۔ زمبابوے کے سابق صدر موگابے کو چار دہائیوں تک ملک کا صدر رہنے کے بعد گزشتہ سال نومبر میں فوج اور اُن کے مخالفوں نے اقتدار سے محروم کر دیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG