رسائی کے لنکس

logo-print

چترال میں پرائمری اسکول بم دھماکے سے تباہ


فائل فوٹو

کالعدم تحریکِ طالبان کے ایک دھڑے 'جماعت الاحرار' نے اسکول تباہ کرنے کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔

افغانستان کے سرحدی صوبے کنڑ سے ملحق خیبر پختونخوا کے دور افتادہ پہاڑی ضلعے چترال کے ایک سرحدی گاؤں میں ایک سرکاری اسکول کو نامعلوم دہشت گردوں نے بارودی مواد سے تباہ کردیا ہے۔

ضلع چترال کی تحصیل ارندو کے گائوں میراک باڑ میں گورنمنٹ پرائمری اسکول میں نامعلوم شرپسندوں کی جانب سے نصب کردہ بارودی مواد میں دھماکے اتوار کو علی الصباح ہوئے۔

ارندو پولیس تھانے کے ایک اہلکار اسماعیل خان نے ٹیلی فون پر وائس آف امریکہ کو بتایا ہے کہ دھماکے سے اسکول کی عمارت کو نقصان پہنچا ہے۔

اُنہوں نے بتایا کہ واقعے کے بعد اسکول کے اردگرد سرچ آپریشن کے دوران ایک دیسی ساختہ بم ناکارہ بھی بنایا گیا جو اسکول کے عمارت کے باہر نصیب کیا گیا تھا۔

اسماعیل خان کے مطابق دھماکوں میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے اور علاقے میں سرچ آپریشن کیا جا رہا ہے۔

پولیس کے مطابق متاثرہ اسکول میں 90 طلبہ زیرِ تعلیم ہیں لیکن اتوار کو ہفتہ وار تعطیل کی وجہ سے کوئی استاد یا طالبِ علم دھماکوں کے وقت اسکول میں موجود نہیں تھا۔

اطلاعات کے مطابق کالعدم تحریکِ طالبان کے ایک دھڑے 'جماعت الاحرار' نے اسکول تباہ کرنے کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔

پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ کالعدم جماعت الاحرار اور تحریکِ طالبان کے دیگر گروہوں سے منسلک عسکریت پسند پاک افغان سرحد سے متصل افغانستان کے علاقوں میں روپوش ہیں۔

ارندو کے علاقے میں چند سال قبل بھی نامعلوم عسکریت پسندوں نے لڑکیوں کے ایک اسکول کو بارودی مواد سے تباہ کردیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG