رسائی کے لنکس

موبائل فون کے کیمرے سے بنائی گئی تقریباً ڈیڑھ منٹ کی اس وڈیو میں آٹھ سے دس سال تک کی عمر کے درجن بھر بچے اسکول یونیفارم میں نظر آ رہے ہیں جنہیں انعام الکبیر بری طرح سے مار رہا ہے۔

پاکستان کے صوبہ خیبر پختوںخواہ میں ایک عدالت نے ایک اسکول کے اس پرنسپل کو عدالتی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا ہے جس نے کم طلبا و طالبات پر وحشیانہ تشدد کیا تھا۔

حالیہ دنوں میں ایک وڈیو سماجی رابطے کی ویب سائٹس پر گردش کر رہی تھی جس میں چترال کے علاقے دروش میں ایک نجی اسکول کے پرنسپل کو بچے اور بچیوں کو بری طرح چھڑی سے پیٹتے ہوئے دکھایا گیا۔

حکام نے اس کا نوٹس لیتے ہوئے پرنسپل کو گرفتار کر کے اس کے خلاف چائلڈ پروٹیکشن ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا اورمنگل کو مجسٹریٹ کے سامنے پیش کر کے اس کا ریمانڈ حاصل کر لیا گیا۔

اس شخص کا نام انعام الکبیر بتایا جاتا ہے۔

موبائل فون کے کیمرے سے بنائی گئی تقریباً ڈیڑھ منٹ کی اس وڈیو میں آٹھ سے دس سال تک کی عمر کے درجن بھر بچے اسکول یونیفارم میں نظر آ رہے ہیں جنہیں انعام الکبیر بری طرح سے مار رہا ہے۔

بچوں کے رونے کے باوجود بھی استاد کو ان پر رحم نہیں آتا وہ مسلسل ان پر تشدد جاری رکھتا ہے۔

اس وڈیو کے منظر عام پر آنے کے بعد لوگوں میں شدید غصہ پایا جاتا تھا اور سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر صوبائی حکومت سے لوگوں نے مطالبہ کیا تھا کہ اس استاد کے خلاف کارروائی کی جائے۔

پاکستان میں بچوں پر جسمانی تشدد کرنے والے کو ایک سال قید اور پچاس ہزار روپے تک جرمانے کی سزا ہو سکتی ہے۔

XS
SM
MD
LG