رسائی کے لنکس

logo-print

سی آئی اے کی امریکی سینیٹرز کی مبینہ نگرانی کی تحقیقات


کمیٹی اور خفیہ ایجنسی کے درمیان ہونے والے معاہدے کے تحت سی آئی اے نے کمیٹی کے ارکان کو لاکھوں خفیہ دستاویزات کا جائزہ لینے کے لیے کمپیوٹرز فراہم کیے۔

امریکہ کی سنٹرل انٹیلی جنس ایجنسی ’سی آئی اے‘ نے ان الزامات کا جائزہ لینا شروع کیا ہے جن میں کہا گیا تھا کہ ایجنسی کے حکام نے تفتیشی پروگرام کی تحقیقات کرنے والے کانگریس کے اہلکاروں کی غیر مناسب انداز میں نگرانی کی۔

ڈیموکریٹک سینیٹر ڈیان فیئنسٹین کی طرف سے بدھ کو سی آئی اے کی تحقیقات سے متعلق صحافیوں کو بتائے جانے سے اس متعلق ’دی نیویارک ٹائمز‘ اور ’مک کلاچے‘ اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں کی تصدیق بھی ہو گئی۔

فیئنسٹین سینیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی کی سربراہ ہیں۔ اس کمیٹی نے سابق صدر جارج ڈبلیو بش کے دور میں دہشت گردوں کی حراست اور ان سے تفتیش کے لیے سی آئی اے کے شروع ہونے والے پروگرام کی چار سال تک تحقیقات کی تھیں۔

کمیٹی اور خفیہ ایجنسی کے درمیان ہونے والے معاہدے کے تحت سی آئی اے نے کمیٹی کے ارکان کو لاکھوں خفیہ دستاویزات کا جائزہ لینے کے لیے کمپیوٹرز فراہم کیے ۔

مبینہ طور پر سی آئی اے کے افسران نے ان کمپیوٹرز پر کمیٹی کے ارکان کی کار گزاری دیکھنے کے لیے تلاشی لی جس کے کہ یہ افسران مجاز نہیں تھے اور جو قانون سازوں کے بقول معاہدے کی بھی خلاف ورزی ہے۔

سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان برینن نے بدھ کو دیر گئے ایک بیان میں کہا کہ انھیں قانوں سازوں کی طرف سے ان الزامات پر ’’سخت مایوسی‘‘ ہوئی۔

ٹائمز اور مک کلاچے کا کہنا تھا کہ سی آئی اے کے انسپکٹر جنرل اس داخلی تحقیقات کی سربراہی کر رہے ہیں اور انھوں نے اس معاملے کو محکمہ انصاف کو بھیج دیا ہے۔

سینیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی نے دسمبر 2012 میں چھ ہزار صفحات کی اس رپوٹ کی منظوری دی تھی جس کے تحت سی آئی اے کے حراستی اور تفتیشی پروگرام متعلق معلومات تھیں کہ اس پروگرام کے تحت مشتبہ دہشت گردوں کو دوسرے ملکوں میں قائم جیلوں میں رکھ کر انھیں حراساں کرنے اور تشدد کے مختلف طریقے استعمال کیے جاتے تھے۔

کمیٹی نے یہ رپورٹ سی آئی اے کو بھجوائی تھی تاکہ اسے منظر عام پر لانے سے قبل ایجنسی اس پر اپنا ردعمل دے سکے۔
XS
SM
MD
LG