رسائی کے لنکس

logo-print

سی آئی اے نے چین سے اپنا عملہ واپس بلا لیا: واشنگٹن پوسٹ


حکام نے واشنگٹن پوسٹ کو بتایا کہ چین او پی ایم کے ریکارڈز جس میں محکمہ خارجہ کے ملازمین کی تفصیلات بھی شامل ہیں، کا موازنہ سفارتخانے میں کام کرنے والے ملازمین سے کر سکتا ہے۔

امریکی روزنامہ ’واشنگٹن پوسٹ‘ نے کہا ہے کہ امریکہ کے وفاقی ملازمین کے ریکارڈز پر دو بڑے سائبر حملوں کے بعد امریکی انٹیلی جنس ادارے ’سی آئی اے‘ نے بیجنگ میں امریکی سفارتخانے سے اپنے عملے کے متعدد ارکان کو واپس بلا لیا ہے۔

موجودہ اور سابق امریکی حکام کے حوالے سے اخبار نے کہا ’سی آئی اے‘ نے یہ اقدام اس لیے اٹھایا کیونکہ امریکہ کے وفاقی ملازمین کی جانچ پڑتال کرنے والے ادارے یو ایس آفس آف پرسنیل مینجمنٹ (او پی ایم) کے ریکارڈ پر سائبر حملوں کے بعد چینی حکام کے لیے انٹیلی جنس ادارے کے ملازمین کی شناخت کرنا ممکن ہو سکتا تھا۔

امریکی حکام نے نجی طور پر او پی ایم پر حملوں کا الزام چین پر لگایا مگر باضابطہ طور پر اس بات کا اعلان نہیں کیا کہ ان حملوں کے پیچھے کون تھا۔ اگرچہ اس بات کے کوئی شواہد موجود نہیں ہیں کہ چرائے گئے ریکارڈز کا غلط استعمال کیا گیا مگر امریکی حکام نے کہا ہے کہ انہیں امریکہ کی طرف سے انٹیلی جنس اکٹھی کرنے میں رکاوٹیں ڈالے جانے کی کوششوں کا خدشہ ہے۔

حکام نے واشنگٹن پوسٹ کو بتایا کہ چین او پی ایم کے ریکارڈز جس میں محکمہ خارجہ کے ملازمین کی تفصیلات بھی شامل ہیں، کا موازنہ سفارتخانے میں کام کرنے والے ملازمین سے کر سکتا ہے اور یہ اندازہ لگا سکتا ہے کہ ان میں سے کون ممکنہ طور پر سی آئی اے کا ملازم ہے۔

اس خبر پر سی آئی اے نے اپنا کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا جب کہ دیگر ذرائع سے بھی اس کی تاحال تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

منگل کی شام شائع ہونے والی خبر اس وقت سامنے آئی ہے جب نیشنل انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر جیمز کلیپر نے منگل کو ہی امریکہ اور چین کے درمیان اس سائبر معاہدے کے بارے میں شکوک و شبہات کا اظہار کیا، جس کا اعلان گزشتہ ہفتے کیا گیا تھا۔

او پی ایم پر سائبر حملے کا انکشاف اس سال کے اوائل میں ہوا تھا اور اس سے کئی سال پرانے سکیورٹی کلئیرنس ریکارڈ بھی متاثر ہوئے ہیں۔

XS
SM
MD
LG