رسائی کے لنکس

logo-print

شام میں فضائی کارروائیاں، عام آبادی کی ہلاکتوں میں اضافہ


شام کے شمال مغرب میں گذشتہ دو روز کے دوران ہونے والی فضائی کارروائیوں میں دو درجن سے زائد شہری ہلاک ہوئے ہیں۔ روس کی مدد سے شام کی فوج کے باغیوں کے خلاف ان کے آخری مضبوط گڑھ میں شدید حملے کیے جارہے ہیں۔

یہ بات ہفتے کے روز لڑائی کی نگرانی پر مامور ادارے اور مقامی سرگرم کارکنان نے بتائی ہے۔

’سیرئن آبزرویٹری فور ہیومن رائٹس‘ نے بتایا ہے کہ ہفتے کی صبح دیر شرقی کے گاؤں پر کیے گئے ایک فضائی حملے میں ایک ہی خاندان کے سات افراد ہلاک ہوئے، جن میں زیادہ تر بچے تھے۔

ادارے نے بتایا ہے کہ دیگر علاقوں پر ہونے والے بم حملوں میں مزید سات افراد ہلاک ہوئے۔

آبزرویٹری نے بتایا کہ جمعے کے روز، الحاس نامی ایک گاؤں پر ہونے والے فضائی حملے میں 13 افراد ہلاک ہوئے۔ ہلاک ہونے والوں میں ایک حاملہ خاتون اور بچہ شامل ہے۔ جان بچانے کے لیے، ایک اور جگہ سے بھاگ نکلنے کے بعد وہ پناہ کی تلاش میں تھیں۔

رمی عبد الرحمٰن آبزرویٹری کے سربراہ ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ حکومت کا مقصد بظاہر یہ تھا کہ فوج کی سنگین کارروائی سے پہلے پہلے شہری آبادی کو وہاں سے نکلنے پر مجبور کیا جائے، جو اپریل کے اواخر میں شروع کردہ فوجی کارروائی کے دوران نسبتاً محفوظ رہ چکے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ ’’لوگوں کو باہر نکالنے کے لیے وہ قصبوں اور مضافات میں بمباری کر رہے ہیں‘‘۔

ان کا کہنا تھا کہ سیکڑوں خاندان شمال کی جانب منتقل ہو رہے ہیں، جو علاقہ ہدف بنائے جانے والے خطے سے خاصا دور ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG