رسائی کے لنکس

logo-print

بے گناہ قبائل کی ہلاکت پر جنرل کیانی کی معذرت


بے گناہ قبائل کی ہلاکت پر جنرل کیانی کی معذرت

پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے رواں ماہ خیبر ایجنسی کی وادی تیراہ میں سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں عام قبائلیوں کی ہلاکت پر معذرت کی ہے۔

ہفتے کو فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ دس اپریل کو وادی تیراہ میں کوکی خیل قبائل کے افراد کی ہلاکت پر جنرل کیانی نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے لواحقین سے دلی تعزیت کی ہے۔ انھوں نے مستقبل میں ایسے واقعات سے بچنے کے لیے اقدامات کرنے کا حکم بھی دیا ہے۔

وادی تیراہ کے سَراوِلاگاؤں میں مشتبہ طالبان جنگجوؤں کے ٹھکانوں پر فوج کے جیٹ طیاروں کی بمباری میں حکام نے ابتدائی طور پر 30عسکریت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا تاہم مقامی قبائل کا کہنا تھا کہ پہلے حملے کے بعد امدادی سرگرمیوں میں مصروف مقامی افراد پر بھی حملہ کیا گیا جس میں متعدد قبائلی مارے گئے ۔ کوکی خیل قبیلے نے ان ہلاکتوں پر حکومت سے شدید احتجاج کیا تھا۔

کوکی خیل قبیلہ حکومت کا حامی ہے اور اس کے لوگ علاقے میں طالبان جنگجوؤں کے خلاف مزاحمت کرتے آئے ہیں۔

خیال رہے کہ رواں ہفتے خیبر ایجنسی میں پولیٹیکل ایجنٹ اور کوکی خیل قبائل کے عمائدین کا ایک جرگہ منعقد کیا گیاجس میں گورنر سرحد کی طرف سے تیراہ میں مقامی قبائل کی ہلاکتوں پر ارسال کردہ تحریری معذرت کا پیغام بھی پڑھ کر سنایا گیا۔ گورنر کی طرف سے معاوضے کے طور پر متاثرہ خاندانوں کو ایک کروڑ پانچ لاکھ روپے دینے کا اعلان بھی کیا گیا۔

افغان سرحد سے ملحقہ پاکستان کے قبائلی علاقے القاعدہ اور طالبان جنگجوؤں کی آماجگاہ سمجھے جاتے ہیں۔ امریکہ اور مغربی دنیا کے مطابق یہ عناصر ان علاقوں کو سرحد پار افغانستان میں بین الاقوامی افواج اور حکومت مخالف پرتشدد کارروائیوں کے لیے استعمال کرتے ہیں۔پاکستانی فوج ایک عرصے سے قبائلی علاقوں میں شدت پسندوں کے خلاف کارروائیوں میں مصروف ہے۔

XS
SM
MD
LG