رسائی کے لنکس

logo-print

یمن: چھاپہ مار کارروائی میں امریکی فوجی ہلاک


فائل فوٹو

یمن میں ایک چھاپہ مار کارروائی کے دوران ہلاک ہونے والے امریکی فوج کے ایک اہلکار کے جسد خاکی کو جب وطن واپس لایا گیا تو امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی وہاں موجود تھے۔

صدر ٹرمپ کی شرکت کے بارے میں پہلے سے کوئی اعلان نہیں کیا گیا تھا۔

صدر ٹرمپ کے منصب سنبھالنے کے بعد بیرون ملک مارے جانے والا یہ پہلا امریکہ فوجی تھا، 36 سالہ ولیئم ریان اونز کا تعلق امریکی ریاست ایلینوائے کے شہر پیوریا سے ہے۔

یمن میں القاعدہ کے ایک کمپاؤنڈ پر ہونے والی چھاپہ مار کارروائی کے دوران لگ بھگ نصف درجن مشتبہ عسکریت پسند بھی ہلاک ہو گئے تھے جب کہ اس کارروائی میں تین امریکی فوجی اہلکار زخمی ہوئے تھے۔

امریکی فوج نے بدھ کو کہا کہ اس چھاپہ مار کارروائی کے دوران ایک درجن سے زائد عام شہری بھی "ممکنہ طور پر" ہلاک ہوئے ہیں جن میں ایک آٹھ سالہ امریکی لڑکی بھی شامل ہے۔

امریکہ کی سینٹرل کمانڈ کے ایک بیان کے مطابق "اس (واقعہ) میں ممکنہ طور پر عام شہریوں کی ہلاکتیں فضائی فائرنگ کی زد میں آنے کی وجہ سے ہوئی ہیں جس کی درخواست امریکی فورسز کی مدد کے لیے کی گئی تھی۔"

یمن میں مارے جانے والے امریکی فوجی کی میت کی واپسی کے موقع پر جب ٹرمپ ڈیلاور کے ڈور ایئر بیس پہنچے تو اس بارے میں پہلے سے کوئی اعلان نہیں کیا گیا تھا۔

ٹرمپ کے ساتھ صحافیوں کا ایک چھوٹا سا گروپ بھی اس شرط پر موجود تھا کہ جب تک وہ وہاں نا پہنچ جائیں اس دورے کے بارے میں کوئی خبر نہیں دی جائے گی۔

صدر کا ہیلی کاپٹر ڈور کے فوجی اڈے پر فوجی اون کی میت کو لے کر آنے والے سی ۔17 طیارے کے اترنے سے تھوڑی دیر پہلے ہی وہاں پہنچا تھا۔

صدر ٹرمپ نے مارے جانے والے امریکی فوجی کے خاندان سے بھی ملاقات کی۔

یمن میں اتوار کی الصبح ہونے والی کارروائی کے بارے میں فوجی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ اس کی منصوبہ بندی اوباما انتظامیہ نے کی تھی تاہم اس کی منظوری ٹرمپ نے دی۔ یہ اقدام یمن میں عسکریت پسند گروپوں کے خلاف کارروائیوں کو ممکنہ طور تیز کرنے کا عندیہ قرار دیا جا رہا ہے۔

XS
SM
MD
LG