رسائی کے لنکس

بلوچستان کے لوگوں کا آئینی حق کوئی نہیں چھین سکتا، چیف جسٹس


چیف جسٹس میاں ثاقب نثار۔ فائل فوٹو
چیف جسٹس میاں ثاقب نثار۔ فائل فوٹو

پاکستان کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ آئین کے آرٹیکل184اور199کے تحت عدالت کو شہریوں کے بنیادی حقوق کے استحصال پر انتظامی معاملات میں مداخلت کا حق حاصل ہے اور بلوچستان کے لوگوں سے ان کا حق کوئی نہیں چھین سکتا۔

سپریم کورٹ کو ئٹہ رجسٹری میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس سید منصور علی شاہ اور سجاد علی شاہ پر مشتمل تین رکنی بنچ نے پیر کو از خود نوٹسز کیس کی سماعت کی۔

چیف جسٹس نے بلوچستان میں شہریوں کو تعلیم، صحت اور پینے کے پانی کی عدم فراہمی اور صوبے کے مختلف اضلاع میں زیر زمین پانی کی گرتی ہوئی سطح دو بارہ بلند کرنے کےلئے مناسب اقدامات نہ کرنے پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ گزشتہ چار سالوں کے دوران حکومت کرنے والے دو سابق وزرائے اعلیٰ نے عوام کو بنیادی حقوق کی فراہمی سے متعلق کیا اقدامات کئے ہیں ۔انہوں نے دونوں رہنماؤں ڈاکٹر عبدالمالک اور نواب ثنا ءاللہ زہری کو منگل کے روز عدالت میں طلب کرلیا۔

بلوچستان کے وزیراعلیٰ عبدالقدوس بزنجو اپنی کابینہ کے بعض وزرا ءکے ہمراہ عدالت میں طلب کرنے پر پیش ہوئے۔

چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے بلوچستان میں اسکول کے عمر کے بچوں کو تعلیم دینے کے حوالے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ صوبے کے دس لاکھ بچے اسکولوں سے باہر ہیں ۔ آئین کے آرٹیکل25اے کے تحت تعلیم ہر بچے کا حق ہے ۔ اُنہوں نے پوچھا کہ کیا ان بچوں کو تعلیم دلانے کےلئے صوبائی حکومت کے پاس کوئی پالیسی ہے؟

میاں ثاقب نثار نے کہا کہ صوبائی دارالحکومت کوئٹہ اور صوبے کے دیگر علاقوں میں زیر زمین پانی کی سطح ایک ہزار فٹ سے نیچے گر گئی ہے جو باعث تشویش ہے۔ چیف جسٹس نے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو سے استفسار کیا کہ کیا صحت، تعلیم اور پانی کی قلت کے مسائل سے متعلق صوبائی حکومت کی کوئی پالیسی ہے۔ وزیراعلیٰ نے عدالت کو بتا یا کہ ان کی حکومت دو ماہ قبل قائم ہوئی ہے۔ ہمارے پاس وسائل اور وقت کم ہے۔ رقبے کے لحاظ سے بلوچستان ملک کا سب بڑا صوبہ ہے لیکن اس کا بجٹ بہت کم ہے۔ فنڈز کی کمی کے باعث لوگوں کے مسائل جلد حل کرنے میں ہم ابھی تک کامیاب نہیں ہوئے ۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ بلوچستان میں کافی معدنیات اور وسائل بھی ہیں پھر بھی بلوچستان کو کیوں نظر انداز کیا جاتا ہے۔ انہوں نے ریمارکس دئے کہ بنیادی حقوق کی فراہمی کے منصوبوں میں وفاق سے فنڈز کی فراہمی کا اگر کوئی مسئلہ صوبائی حکومت کو درپیش ہے تو عدالت ہرممکن مدد کیلئے تیار ہے۔ بلوچستان کے لوگوں کے جائز حقوق سے متعلق آئینی درخواستیں عدالت میں لائی جائیں۔ عدالت اس پر اپنا بھر پور کردار ادا کرے گی۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار اور وزیر اعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجونے سول اسپتال کو ئٹہ کے بعض شعبوں کا بھی دورہ کیا اور شہر یوں کو فراہم کی جانے والی سہولیات کا جائزہ لیا ۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے سول اسپتال کے دورے کے موقع پر ہڑتال کرنے والے ڈاکٹروں سے بھی ملاقات کی اور ڈاکٹروں کے مسائل جلد حل کرانے کی یقین دھانی کر ادی جس پر ینگ ڈاکٹر ایسوسی ایشن نے صوبے میں 34 روز سے جاری ہڑ تال ختم کرنے کا اعلان کیا ۔

چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار سے شیعہ ہزارہ برادری کی ایک پارٹی ہزارہ ڈیموکریٹک نے پارٹی کے سربراہ عبدالخالق ہزارہ کی قیادت میں ملاقات کی ۔ وفد نے چیف جسٹس کو ہزارہ برادری کے لوگوں کی ٹارگٹ کلنگ کے واقعات سے بھی آگاہ کیا۔

XS
SM
MD
LG