رسائی کے لنکس

logo-print

ذہن سے نکال دیں کہ الیکشن مؤخر ہوں گے: چیف جسٹس


فائل فوٹو

چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیے ہیں کہ یہ بات ذہن سے نکال دیں کہ الیکشن تاخیر کا شکار ہوں گے۔ انتخابات قریب ہیں، لہٰذا جنگی بنیادوں پر کام کرنا ہو گا۔

سپریم کورٹ آف پاکستان نے کاغذاتِ نامزدگی سے متعلق اپیلیں بدھ کو سماعت کے لیے مقرر کرنے کا حکم دیتے ہوئے موجودہ اور سابقہ انتخابی ضابطۂ اخلاق کا مواد بھی طلب کرلیا ہے۔

چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیے ہیں کہ یہ بات ذہن سے نکال دیں کہ الیکشن تاخیر کا شکار ہوں گے۔ انتخابات قریب ہیں، لہٰذا جنگی بنیادوں پر کام کرنا ہو گا۔

سپریم کورٹ نے پیر کو انتخابی ضابطۂ اخلاق سے متعلق ورکرز پارٹی کی درخواست کی سماعت کی۔

درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ سپریم کورٹ نے 2012 میں انتخابی اصلاحات کا حکم دیا تھا۔ عدالت نے الیکشن کمیشن کے اختیارات کا بھی تعین کیا تھا۔ الیکشن کمیشن نے سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر ضابطۂ اخلاق طے کیا ہے اور خدشہ ہے کہ ضابطۂ اخلاق میں تبدیلی کردی گئی ہے۔

الیکشن کمیشن کے ڈائریکٹر جنرل لا، ارشد خان نے عدالت کو آگاہ کیا کہ سپریم کورٹ کے حکم کی روشنی اور سیاسی جماعتوں کی باہمی رضا مندی سے ضابطۂ اخلاق تیار کیا گیا ہے۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ پہلے اور اب کے ضابطۂ اخلاق میں کیا فرق ہے؟ کل شام تک سابق اور موجودہ انتخابی ضابطۂ اخلاق سے متعلق رپورٹ پیش کریں۔ انتخابات قریب ہیں، جنگی بنیادوں پر کام کرنا ہو گا۔ انتخابات کسی صورت تاخیر کا شکار نہیں ہوں گے۔ الیکشن کمیشن خود بے بس ہوجائے تو الگ بات ہے۔

اس موقع پر درخواست گزار کے وکیل نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ الیکشن کمیشن خود کو با اختیار سمجھتا تو کاغذاتِ نامزدگی کا تنازع ہی کھڑا نہ ہوتا۔

اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اب کیا کیا جا سکتا ہے۔ نئے کاغذاتِ نامزدگی کی وجہ سے بہت سے امیدوار معلومات اکٹھی ہی نہیں کر سکے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ اب اگر پرانے کاغذاتِ نامزدگی بحال کیے جاتے ہیں تو اُمیدواروں کو بہانہ مل جائے گا کہ ہمارے پاس معلومات نہیں ہیں۔ اس لیے چاہتے ہیں کہ انتخابات تاخیر کا شکار نہ ہوں۔

عدالت نے مزید ریمارکس دیے کہ عوامی ووٹوں سے بننے والی پارلیمنٹ با اختیار ہے۔ اس نے قانون سازی کر دی ہے تو ہم کیا کر سکتے ہیں۔ اب قانون سازی ہو چکی ہے۔

امیدواروں کی تفصیلات حاصل کرنے سے متعلق درخواست پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کس قانون کے تحت امیدوار کے مکمل کوائف آپ کو بتا دیں؟ پارلیمنٹ نے ہی قوانین بنائے ہیں۔ اسی وجہ سے کل حکمِ امتناع جاری کیا۔ جتنا آسان آپ بتا رہے ہیں، فارم تبدیل کرنا اتنا آسان نہیں۔ فارم میں تبدیلی سے متعلق تمام ریکارڈ طلب کر لیتے ہیں۔

سپریم کورٹ نے اس بارے میں لاہور رجسٹری سے بھی ریکارڈ طلب کرلیا ہے۔

چیف جسٹس نے کاغذاتِ نامزدگی میں ترامیم سے متعلق الیکشن کمیشن اور سابق اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی اپیلیں بدھ کو سماعت کے لیے مقرر کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ اپیلوں کی سماعت لارجر بینچ کرے گا۔

کیس کی دوبارہ سماعت 6 جون کو ہوگی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG