رسائی کے لنکس

بھارتی کشمیر میں جھڑپ، نو مبینہ علیحدگی پسند اور آٹھ فوجی ہلاک


بھارتی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ علیحدگی پسندوں کا ایک بڑا گروہ کنٹرول لائن عبور کرکے کپواڑہ میں داخل ہوا تھا۔ (فائل فوٹو)
بھارتی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ علیحدگی پسندوں کا ایک بڑا گروہ کنٹرول لائن عبور کرکے کپواڑہ میں داخل ہوا تھا۔ (فائل فوٹو)

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں لائن آف کنٹرول کے قریبی علاقے کیرن سیکٹر میں فوج اور علیحدگی پسندوں میں جھڑپیں ہوئی ہیں۔ جن میں نو مشتبہ علیحدگی پسند اور آٹھ فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔

سرینگر میں بھارتی فوج کے ترجمان کرنل راجیش کالیہ نے میڈیا نمائندوں سے گفتگو میں پاکستان پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ علیحدگی پسندوں کا ایک بڑا گروہ کنٹرول لائن کو عبور کرکے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر سے ضلع کپواڑہ کے کیرن سیکٹر میں داخل ہوا تھا۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ کنٹرول لائن عبور کرکے بھارتی سر زمین میں داخل ہوتے ہی فوجی اہلکاروں نے انہیں ہتھیار ڈال کر خود کو ان کے سپرد کرنے کے لیے کہا تاہم اسی دوران جھڑپ شروع ہوئی۔

پولیس ذرائع کے مطابق اس علاقے میں فوج علیحدگی پسندوں کی تلاش میں گزشتہ تین دن سے کارروائی کر رہی ہے جس کے دوران ہیلی کاپٹرز بھی استعمال کیے جا رہے ہیں۔

فوج کے ترجمان نے جھڑپ کے دوران ابتدائی طور پر تین بھارتی فوجی اہلکاروں کے مارے جانے کی بھی تصدیق کی تھی۔

ترجمان کے مطابق سارا علاقہ برف سے ڈھکا ہوا ہے لیکن مشکل زمینی صورتِ حال اور خراب موسم کے باوجود زخمی سپاہیوں کو اُس علاقے سے قریبی طبی مرکز منتقل کیا گیا تاہم ان میں سے 2 زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے جس کے بعد مرنے والے اہلکاروں کی تعداد تین ہوگئی ہے جب کہ باقی زخمیوں کا علاج جاری ہے۔

فوج نے ہلاک ہونے والے سپاہیوں کے نام بتانے سے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ ضابطے کے مطابق پہلے اُن کے اہلِ خانہ کو مطلع کرنا ہے۔

جھڑپ کے دوراں ہلاک ہونے والے مشتبہ علیحدگی پسندوں کی فوری طور پر شںاخت نہیں ہو سکی ہے اور نہ ہی یہ معلوم ہو سکا ہے کہ ان کا تعلق کس تنظیم سے تھا۔

بعد ازاں سامنے آنے والی رپورٹس کے مطابق سرینگر کے فوجی اسپتال میں زیر علاج زخمی سپاہیوں میں سے مزید پانچ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے۔

اس طرح حد بندی لائن کے قریب جھڑپ میں ہلاک ہونے والے فوجیوں کی تعداد بڑھ کر 8 ہو گئی۔ ان میں ایک جونیئر کمیشنڈ افسر بھی شامل ہے۔

فوجی ترجمان نے صرف پانچ اہلکاروں کے مارے جانے کی تصدیق کی۔

اس سے پہلے ہفتے کو بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے جنوبی ضلع کُلگام میں ایک جھڑپ کے دوران سب سے بڑی مقامی علیحدگی پسند تنظیم حزب المجاہدین سے وابستہ تین مقامی نوجوان ہلاک اور ایک فوجی زخمی ہوگیا تھا۔

12 گھنٹے جاری رہنے والی اس جھڑپ کے دوراں تین رہائشی مکانات بھی تباہ ہوئے۔ کچھ مکانوں کو معمولی نقصان پہنچا۔

بھارتی کشمیرمیں جھڑپوں اور دیگر پُرتشدد واقعات میں جنوری سے اب تک 71 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوچکے ہیں۔

ہلاک ہونے والوں میں 54 مشتبہ علیحدگی پسند، 9 سیکیورٹی اہلکار اور 8 عام شہری شامل ہیں۔

  • 16x9 Image

    یوسف جمیل

    یوسف جمیل 2002 میں وائس آف امریکہ سے وابستہ ہونے سے قبل بھارت میں بی بی سی اور کئی دوسرے بین الاقوامی میڈیا اداروں کے نامہ نگار کی حیثیت سے کام کر چکے ہیں۔ انہیں ان کی صحافتی خدمات کے اعتراف میں اب تک تقریباً 20 مقامی، قومی اور بین الاقوامی ایوارڈز سے نوازا جاچکا ہے جن میں کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس کی طرف سے 1996 میں دیا گیا انٹرنیشنل پریس فریڈم ایوارڈ بھی شامل ہے۔

XS
SM
MD
LG