رسائی کے لنکس

logo-print

یاسین ملک پر بھارتی فضائیہ کے اہلکاروں کے قتل کی فرد جرم عائد


کشمیری رہنما یاسین ملک، فائل فوٹو

جموں کی ایک خصوصی انسدادِ دہشت گردی (ٹاڈا) عدالت نے قوم پرست جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے قائد محمد یاسین ملک اور ان کے چھ ساتھیوں پر 30 سال پہلے بھارتی فضائیہ کے افسران اور اہل کاروں پر ایک حملے کے زیرِ سماعت کیس میں فردِ جرم عائد کردی ہے۔

مسلح افراد کی طرف سے بھارتی زیرِ انتظام کشمیر کے گرمائی صدر مقام سرینگر کے راول پورہ علاقے میں 25 جنوری 1990 کو کیے گیے اس حملے میں ایک اسکورڈن لیڈر سمیت بھارتی فضائیہ کے چار اہل کار ہلاک اور ایک درجن سے زائد زخمی ہوئے تھے۔

یاسین ملک کے علاوہ جن دوسرے افراد پر ٹاڈا عدالت کی طرف سے قتل، اقدامِ قتل، غیر قانونی طور پر ہتھیار رکھنے اور سازش میں ملوث ہونے کے الزامات میں فردِ جرم عائد کی گئی ہے ان میں جاوید احمد میر، شوکت احمد بخشی، محمد سلیم ننھاجی، جاوید احمد زرگر اور منظور احمد صوفی عرف مصطفےٰ شامل ہیں۔

بھارت کے مرکزی تفتیشی ادارے سنٹرل بیورو آف انوسٹیگیشن یا سی بی آئی نے یاسین ملک اور اُن کے ساتھیوں کے خلاف 24 نومبر 1990 کو عدالت میں چارج شیٹ داخل کی تھی لیکن 1995 میں جموں و کشمیر ہائی کورٹ کے ایک یک رکنی بینچ نے اس کیس پر حکمِ التوا جاری کیا تھا۔ ٹاڈا عدالت ہی میں یاسین ملک کے خلاف 1990 میں اُس وقت کے بھارتی وزیرِ داخلہ مفتی محمد سعید کی بیٹی روبیہ سعید کو اغوا کرنے کے الزام میں بھی مقدمہ چل رہا ہے۔

2008 میں یاسین ملک نے ٹاڈا عدالت سے یہ درخواست کی تھی کہ مقدمات کو سرینگر منتقل کیا جائے کیونکہ جموں میں پائی جانے والی مخدوش صورتِ حال اور ہندو مسلم تناؤ کی وجہ سے انہیں حفاظتی مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ تاہم عدالت نے یہ کہہ کر ان کی درخواست کو مسترد کر دیا تھا کہ سرینگر میں ٹاڈا کورٹ کو بند کر دیا گیا ہے۔

گزشتہ سال اپریل میں جموں و کشمیر ہائی کورٹ نے 2008 میں عدالت کے یک رکنی بینچ کی طرف سے جاری کیے گیے حکمِ التوا کو کالعدم قرار دے دیا۔ ستمبر 2019 میں جموں میں ٹاڈا کورٹ نے ان مقدمات پر پیروی دوبارہ شروع کر کے یاسین ملک کے بلا ضمانت وارنٹ جاری کر دیے۔

یاسین ملک کو اس سے پہلے ہی بھارتی کشمیر کی پولیس نے فروری 2019 میں امتناعی حراست میں لے لیا تھا۔ کچھ عرصہ بعد انہیں سخت گیر قانون پبلک سیفٹی ایکٹ (پی ایس اے) کے تحت نظر بند کر دیا گیا۔ بعد ازاں بھارت کے ایک اور تفتیشی ادارے نیشنل انوسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) نے انہیں مبینہ ٹیرر فنڈنگ کے ایک کیس میں حراست میں لے لیا۔ این آئی اے کی ایک خصوصی عدالت کی طرف سے عدالتی حراست میں بھیجے جانے کے بعد یاسین ملک اس وقت دِلّی کی تہاڑ جیل میں قید ہیں۔

یاسین ملک پر فرد جرم عائد کرنے سے پہلے ٹاڈا عدالت نے انہیں پیش کرنے کے لیے کہا تھا لیکن بھارتی وزارتِ داخلہ نے مبینہ طور پر متعلقہ حکام کو ایسا کرنے سے منع کیا۔ ایک اطلاع میں کہا گیا تھا کہ یاسین ملک کو عدالت کے سامنے ویڈیو کانفرنسگ کے ذریعے پیش کیا جا رہا ہے۔

ٹاڈا عدالت نے کہا ہے کہ سی بی آئی یاسین ملک اور ان کے ساتھیوں کے بھارتی فضائیہ کے اہلکاروں پر دہشت گردانہ حملے میں ملوث ہونے کے واضح ثبوت پیش کرنے میں کامیاب ہو گئی ہے۔

تاہم تجزیہ نگار اور یونیورسٹی آف کشمیر کے شعبہء قانون و بین الاقوامی تعلقات کے سابق سربراہ پروفیسر ڈاکٹر شیخ شوکت حسین کہتے ہیں کہ 25 جنوری 1990 کے اس واقعے کو بھارتی زیرِ انتظام کشمیر میں اُس وقت پائی جانے والی صورتِ حال کے پس منظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا، "اگر کسی ملک، ریاست یا علاقے میں امن بحال کرنا ہو اور سیاسی مسائل کا سیاسی حل ڈھونڈنا مقصود ہو تو اس طرح کے واقعات کو عمومی طور پر نظر انداز کیا جاتا ہے"۔

انہوں نے مزید کہا، "اس طرح کے جرائم اگر انہیں جرائم قرار دیا جائے، جرم کرنے کے ارادے سے نہیں بلکہ ایک سیاسی مقصد کو حاصل کرنے کے لیے کیے جاتے ہیں۔ عالمی قوانین اور مقررہ ضابطے بھی اس سلسلے میں اُن حالات کو سامنے رکھنے کا مشورہ دیتے ہیں جن حالات میں اس طرح کے واقعات پیش آتے ہیں"۔

یاسین ملک اور ان کے ساتھیوں پر عدالت کی طرف سے فردِ جرم عائد کرنے کے سیاسی مضمرات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر اس معاملے کو منطقی انجام تک لے جایا جاتا ہے تو اس سے کشمیریوں میں پائی جانے والی بیگانگی اور بھارت مخالف جذبات میں مزید اضافہ ہو گا اور ایک نئی سیاسی ہلچل پیدا ہو سکتی ہے جیسا کہ محمد مقبول بٹ اور محمد افضل گورو کو پھانسی دینے کے بعد ہوا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG