رسائی کے لنکس

logo-print

یوکرائن: مظاہرین اور پولیس میں جھڑپیں جاری


گزشتہ روز ہونے والے پرتشدد واقعات میں 200 سے زائد افراد زخمی ہوئے تھے جن میں سے نصف مظاہرین تھے۔

یوکرین کے دارالحکومت کِیو میں حکومت مخالف مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ منگل کو مسلسل تیسرے روز بھی جاری ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ روز ہونے والے پرتشدد واقعات میں 200 سے زائد افراد زخمی ہوئے تھے جن میں سے نصف مظاہرین تھے۔

پیر کو ہونے والے مظاہروں کے شرکا نے پولیس پر پتھراؤ کیا تھا اور پیٹرول بم برسائے تھے جس کے جواب میں پولیس نے سخت سرد موسم میں مظاہرین پر پانی کی بوچھاڑ کی تھی۔

انٹرنیٹ پر اپ لوڈ کی جانے والی مظاہروں کی نئی ویڈیو فوٹیج میں مظاہرین کو پولیس پر راکٹ باری کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے جس کے جواب میں پولیس اہلکار ربڑ کی گولیاں فائر کر رہے ہیں۔

کِیو میں پرتشدد واقعات کا آغاز اتوار کو اس وقت ہوا تھا جب مظاہروں پر عائد کی جانے والی سرکاری پابندی کےخلاف احتجاج کرنے والے ایک لاکھ سے زائد مظاہرین پولیس کی جانب سے منتشر کیے جانے کی کوششوں پر مشتعل ہوگئے تھے۔

اتوار کو ہونے والے مظاہرے کے دوران حزبِ اختلاف کے رہنما وٹالے کلسچکو نے مظاہرین سے پرتشدد ہتھکنڈے استعمال نہ کرنے کی اپیل کی تھی لیکن ان کے خطاب کے دوران ہی مظاہرین کے ایک گروہ نے ان کے منہ پر اسپرے کرکے انہیں نیچے گرادیا تھا۔

حزبِ اختلاف کے رہنما نے بعد ازاں صدر وکٹر یونکو وچ سے ملاقات کی تھی جس کے بعد صدر نے حزبِ اختلاف کی شکایات دور کرنے کے لیے ایک ورکنگ گرو پ تشکیل دینے کا حکم دیا تھا۔

تاہم ملاقات کے بعد وٹالے کلچکسو نے کہا تھا کہ حزبِ مخالف کے رہنما اس وقت تک حکومت کے ساتھ بات چیت نہیں کریں گے جب تک صدر یونکووچ خود حزبِ اختلاف کےتحفظات دور کرنے کی یقین دہانی نہیں کراتے۔

خیال رہے کہ یوکرین کے دارالحکومت کِیو اور دیگر شہروں میں حکومت مخالف مظاہروں کا سلسلہ گزشتہ سال نومبر سے جاری ہے۔ مظاہرے صدر یونکو وچ کی جانب سے یورپی یونین کے ساتھ مجوزہ تجارتی معاہدے پر دستخط کرنے سے انکار اور روس کے ساتھ تجارتی روابط بڑھانے کے اعلان پر شروع ہوئے تھے جنہوں نے اب حکومت مخالف تحریک کی صورت اختیار کرلی ہے۔

دریں اثنا امریکہ نے بھی حزبِ اختلاف کے تحفظات دور نہ کرنے اور مظاہرین کے خلاف تشدد جار ی رکھنے کی صورت میں یوکرین کی حکومت کو اقتصادی پابندیوں کی دھمکی دی ہے۔
XS
SM
MD
LG