رسائی کے لنکس

سری نگر: عسکری کمانڈر اور بھارتی فوجی افسر ہلاک

  • یوسف جمیل

فائل

اعلیٰ پولیس اہل کار کے مطابق، حفاظتی دستوں کی جوابی فائرنگ میں عسکری کمانڈر جس نے بھاگ کر ایک قریبی عمارت میں پناہ لے لی، مارا گیا۔

بھارتی عہدیداروں نے بتایا ہے کہ اس اطلاع کے بعد کہ کالعدم جیشِ محمد کا ایک اعلیٰ کمانڈر شمال مغربی ضلع بارہ مولہ کے واڈورہ علاقے میں گھوم رہا ہے، حفاظتی دستوں نے پیر کی صبح وہاں ناکہ بٹھا دیا۔

دوپہر کے قریب جیشِ محمد کا آپریشنل کمانڈر عمر خالد عرف خالد بھائی علاقے میں نمودار ہوا اور جیسا کہ انسپکٹر جنرل آف پولیس منیر احمد خان نے دعویٰ کیا، جونہی اُس کی نظر حفاظتی دستوں پر پڑی اُس نے اُن پر دستی بم پھینکا جو نہیں پھٹا۔

اسی رپورٹ کے مطابق، اس کے ساتھ ہی، اُس نے سادہ کپڑوں میں ملبوس حفاظتی اہلکاروں پر پستول سے فائرنگ کی۔ لیکن، اس سے کوئی مارا گیا نہ زخمی ہوا۔

آئی جی پی کے مطابق، حفاظتی دستوں کی جوابی فائرنگ میں عسکری کمانڈر جس نے بھاگ کر ایک قریبی عمارت میں پناہ لے لی، مارا گیا۔ پولیس افسر نے یہ بھی بتایا کی خالد بھائی کا تعلق پاکستان سے تھا اور اُس کا نام انتہائی مطلوب دہشت گردوں کی فہرست میں شامل تھا۔

اس سے پہلے نئی دہلی کے زیرِ انتظام کشمیر کے وسطی ضلع بڈگام میں مشتبہ عسکریت پسندوں کی طرف سے چھپ کر کئے گئے حملے میں بھارتی فوج کا ایک جونئیر کمیشنڈ افسر راج کمار ہلاک ہوگیا تھا۔ سرینگر میں بھارتی فوج کے ترجمان کرنل راجیش کالیہ نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ عسکریت پسندوں نے فوج پر اُس وقت گولی چلادی جب وہ علاقے کے پیدل گشت پر تھی۔

یہ واقعات بھارتی وزیرِ داخلہ راج ناتھ سنگھ کی طرف سے دیئے گئے اس بیان کے چند گھنٹے بعد پیش آئے ہیں کہ بھارتی فوج پاکستان کے ساتھ ملنے والی سرحدوں پر روزانہ پانچ سے چھہ عسکریت پسندوں کو ہلاک کر رہی ہے۔ بھارتی وزیرِ داخلہ نے یہ بھی کہا کی انہوں نے فوج سے کہہ دیا ہے کہ وہ پاکستانی فوج پر فائیر نہ کھولیں۔ لیکن، اگر سرحد پار سے اُن پر گولی چلائی جاتی ہے تو وہ، اُن کے بقول، اس کے جواب میں بے شمار گولیاں چلا کر اُنہیں دندان شکن جواب دیدیں۔

اس دوراں پیر کو وادی کشمیر میں خواتین اور لڑکیوں کی چوٹیاں کاٹنے کے بڑھتے ہوئے پُراسرار واقعات کے خلاف ایک عام ہڑتال کی گئی جس سے کاروبارِ زندگی مفلوج ہو کر رہ گیا۔ ہڑتال کے لئے اپیل استصوابِ رائے کا مطالبہ کرنے والے قائدین کے ایک اتحاد نے کی تھی جس نے ان واقعات کے سلسلے میں شک کی انگلی بھارتی خفیہ ایجنسیوں اور حفاظتی دستوں پر اُٹھائی ہے۔

عہدیدار اس طرح کے الزامات کی پہلے ہی تردید کر چکے ہیں۔ ہڑتال کے دوران بعض مقامات پر تشدد اور سنگباری کے واقعات بھی پیش آئے، جن کے دوران ایک کمسن لڑکا بری طرح زخمی ہوگیا۔

مسلم اکثریتی وادی کشمیر میں گزشتہ تین ہفتے کے دوران خواتین اور اسکولی طالبات کی چوٹیاں کاٹنے کے 50 سے زائد واقعات پیش آئے ہیں۔ تازہ ترین واقعات میں نا معلوم حملہ آوروں نے دارالحکومت سرینگر کے بٹہ مالو علاقے میں ایک 34 سالہ خاتون اور ضلع گاندربل میں دو نو عمر لڑکیوں کی چوٹیاں کاٹ ڈالیں۔ جس کے بعد ان علاقوں میں لوگوں نے سڑکوں پر آکر احتجاج کیا۔ بٹہ مالو میں پولیس نے خواتین کے ایک مظاہرے کو منتشر کرنے کے لئے آنسو گیس چھوڑی۔

چوٹیاں کاٹنے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے نتیجے میں خواتین میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔ پولیس نے ان واقعات میں ملوث کسی بھی فرد کو پکڑنے میں مدد فراہم کرنے والے کو چھہ لاکھ روپے انعام کے طور پر دینے کا اعلان کر رکھا ہے۔ اس کے علاوہ اس نے اب تک پیش آنے والے واقعات کی تحقیقات کرنے کے لئے خصوصی ٹیمیں تشکیل دے دی ہیں، جبکہ مزید واقعات کو پیش آنے سے روکنے کے لئے 24 گھنٹے چالو رہنے والی ہیلپ لائنز قائم کی گئی ہیں۔ لیکن، تاحال پولیس کے ہاتھ کچھ نہیں لگا ہے۔

اس دوران تقریباً نصف درجن ایسے واقعات بھی پیش آئے ہیں جن کے دوران لوگوں کے بپھرے ہجوموں نے ایسے افراد کو پکڑ کر انہیں چوٹیاں کاٹنے والے سمجھ کر مارا پیٹا جن کا پولیس کے مطابق ان واقعات سے دور کا واسطہ بھی نہیں تھا۔ اس طرح کے ایک واقعے میں جو گزشتہ ہفتے جنوبی کشمیر میں پیش آیا تھا ایک بوڑھا شخص اپنی جان گنوا بیٹھا۔

سنیچر کی رات سرینگر سے گزرنے والے آسٹریلیا، جنوبی کوریا، آئیرلینڈ اور برطانیہ کے سیاحوں کے ایک گروپ کو بھی لوگوں کے ایک مجمعے نے اسی شبے میں پکڑ لیا تھا۔ لیکن، بعد میں، پولیس نے مقامی شہریوں کی مدد سے انہیں ہجوم سے بچا لیا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG