رسائی کے لنکس

بھارتی کشمیر: روہنگیا مسلمانوں کے حق میں پُرتشدد مظاہرے

  • یوسف جمیل

فائل

سرینگر میں بھی جگہ جگہ روہنگیا مسلمانوں کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کے لیے جلسے جلوسوں اور مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔

بھارت کے زیرِ انتظام کشمیرمیں جمعے کو میانمار کے روہنگیا مسلمانوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے جگہ جگہ مظاہرے ہوئے اور جلوس نکالے گئے جن کے دوران وادی کے دارالحکومت سرینگر اور جنوبی شہر اننت ناگ میں تشدد بھڑک اُٹھا۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ اننت ناگ میں لوگوں نے ایک مقامی مسجد میں نمازِ جمعہ ادا کرنے کے بعد جلوس نکالا جس کے شرکا نے روہنگیا مسلمانوں کے حق میں اور میانمار کی حکومت اور فوج کے خلاف نعرے لگائے۔

جلوس جب اننت ناگ کے مرکزی چوراہے لال چوک کی طرف بڑھنے لگا تو سکیورٹی فورسز نے اسے منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کے گولے داغے اور لاٹھی چارج کیا۔

جلوس کے مشتعل شرکا نے جواباً سکیورٹی اہلکاروں پر پتھراؤ کیا۔ مظاہرین اور فورسز کے درمیان جھڑپیں آخری اطلاع آنے تک جاری تھیں اور ان کا دائرہ دیگر علاقوں تک پھیل گیا تھا۔

سرینگر میں بھی جگہ جگہ روہنگیا مسلمانوں کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کے لیے جلسے جلوسوں اور مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔

مشتعل مظاہرین نے شہر میں پولیس کی ایک گاڑی کو آگ لگادی جس میں سرینگر پولیس کے ایک ترجمان کے مطابق دو پولیس اہلکار زخمی ہوگئے۔

سرینگر کی مقامی انتظامیہ نے مظاہرین کے ساتھ جھڑپوں کے دوران دو افسروں سمیت چھ پولیس اہلکاروں کے زخمی ہونے کی خبر دی ہے۔

سیاسی طور پر حساس ترین سمجھے جانے والے پرانے سری نگر شہر سے بھی مظاہروں اور پُر تشدد واقعات پیش آنے کی اطلاعات ملی ہیں۔

مظاہروں کے پیشِ نظر جمعے کو علی الصباح ہی مسلح پولیس اور نیم فوجی دستوں نے پانچ پولیس تھانوں کی حدود میں آنے والے علاقوں کو اپنے کنٹرول میں لے لیا تھا اور وہاں حفظِ ما تقدم کے طور پر کرفیو جیسی پابندیاں عائد کردی تھیں۔

نمازِ جمعہ کی بعد وادئ کشمیر کے مختلف حصوں اور جموں خطے کے بعض مسلم اکثریتی علاقوں میں بھی لوگوں نے سڑکوں پر آکر میانمار میں روہنگیا مسلمانوں پر ہونے والے تشدد کے خلاف مظاہرے کیے۔

روہنگیا مسلمانوں کے حق میں یومِ یکجہتی منانے کی اپیل مذہبی قائدین اور جماعتوں کے ایک اتحاد 'متحدہ مجلسِ علما' نے کی تھی جس کی تائید استصوابِ رائے کا مطالبہ کرنے والی کشمیری قائدین کے اتحاد نے کی تھی جس میں سید علی شاہ گیلانی، میرواعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک شامل ہیں۔

میرواعظ عمر فاروق کو جمعرات کو سرینگر میں اُن کے گھر میں نظر بند کردیا گیا تھا جب کہ پولیس یاسین ملک کو سرینگر کے آبی گذر علاقے میں واقع جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے صدر دفاتر سے پکڑ کر لے گئی تھی۔

سید گیلانی گزشتہ کئی ماہ سے اپنے گھر میں نظر بند ہیں۔ تاہم انہیں جمعے کو غیر متوقع طور پر رہا کردیا گیا تھا جس کے بعد انہوں نے سرینگر کی ایک مسجد میں نمازِ جمعہ ادا کی اور پھر ایک احتجاجی مظاہرے سے خطاب کیا۔

نئی دہلی کے زیرِ انتظام کشمیر کے جموں علاقے میں چند ہفتے پہلے تک ہزاروں روہنگیا مسلمان پناہ گزین جھونپڑیوں میں رہ رہے تھے جو بعض مقامی ہندو تنظیموں کی طرف سے مبینہ طور پر ہراساں کیے جانے اور دھمکیوں کے بعد بھارت کی مختلف ریاستوں بالخصوص تلنگانہ اور اس کے دارالحکومت حیدر آباد (دکن) کی طرف ہجرت کررہے ہیں۔

بھارتی حکومت نے حال ہی نئی دہلی میں پارلیمان کو بتایا تھا کہ اس وقت بھارت میں لگ بھگ 40 ہزار روہنگیا مسلمان پناہ گزین غیر قانونی طور پر رہ رہے ہیں جنہیں واپس برما بھیجا جائے گا۔

ان میں 16 ہزار سے زائد وہ تارکینِ وطن بھی شامل ہیں جنہیں اقوامِ متحدہ کے پناہ گزینوں سے متعلق ادارے یو این ایچ سی آر نے ہراساں کیے جانے، حراست میں لیے جانے اور ملک بدری جیسی کارروائیوں سے بچنے کے لیے شناختی کارڈ جاری کیے ہیں۔

XS
SM
MD
LG