رسائی کے لنکس

فرقہ وارانہ دہشت گردی میں نمایاں کمی ہوئی ہے: نیکٹا


فائل فوٹو
فائل فوٹو

انسداد دہشت گردی کے قومی ادارے "نیکٹا" کا کہنا ہے کہ ملک میں ماضی کی نسبت فرقہ وارانہ دہشت گردی میں واضح کمی آئی ہے جب کہ دہشت گردوں کے خلاف جاری کارروائیوں میں عسکریت پسندوں کے مواصلاتی نظام کو تباہ کیا جا چکا ہے اور ان کے مالی وسائل کے حصول کی راہیں مسدود کرنے کے اقدام کے بھی خاطر خواہ نتائج برآمد ہوئے ہیں۔

منگل کو نیکٹا کے سربراہ احسان غنی نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ امور میں رپورٹ پیش کی جس کے مطابق 2012ء سے 2014ء کے درمیان عروج پر رہنے والی فرقہ وارانہ دہشت گردی کے واقعات میں واضح کمی آئی۔

ان کے بقول مسلک یا فرقے کی بنیاد پر کی جانے والی دہشت گردی کے 37 واقعات اب تک سامنے آئے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ دہشت گرد واقعات میں کمی کی بڑی وجہ دہشت گردی و انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے وضع کردہ قومی لائحہ عمل (نیشنل ایکشن پلان) کے تحت کیے گئے اقدام ہیں جن میں دہشت گردوں کے نیٹ ورکس کو ختم کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے معاونین اور مالی وسائل کے ذرائع پر ہاتھ ڈالنا بھی شامل ہیں۔

احسان غنی کے بقول ملک بھر میں پانچ ہزار سے زائد بینک کھاتوں اور تیس کروڑ روپے کی رقم کو بھی منجمد کیا گیا جب کہ غیر قانونی طور پر استعمال کی جانے والی تقریباً دس کروڑ موبائل فون سمز کو بھی بلاک کیا گیا۔

پاکستان کو تقریباً ایک دہائی سے زائد عرصے سے دہشت گرد و انتہا پسندی کا سامنا رہا جس میں سکیورٹی فورسز سمیت اس کے ہزاروں شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔ لیکن 2014ء کے وسط سے افغان سرحد سے ملحقہ قبائلی علاقوں میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں اور بعد ازاں ملک بھر میں عسکریت پسندوں اور ان کے حامیوں کے خلاف جاری کارروائیوں کی بدولت ماضی کی نسبت امن و امان کی صورتحال میں قابل ذکر بہتری آئی ہے۔

عسکریت پسندی کی اس لہر میں مذہب اور فرقے کی بنیاد پر بھی دہشت گرد واقعات رونما ہوتے رہے جس میں مساجد، امام بارگاہوں، مزاروں اور گرجا گھروں کو نشانہ بنایا جاتا رہا۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ گزشتہ ہفتے ہی فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے بھی دعویٰ کیا تھا کہ دہشت گرد کسی ایک مکتبہ فکر کو ہدف بنا کر مسالک میں تفریق کو بڑھانے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔

انھوں نے بتایا تھا کہ 2013ء میں راولپنڈی میں عاشور کے جلوس کے دوران ایک سنی مسجد پر ہونے والا مہلک حملہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے کیا تھا اور اس میں میبنہ طور پر ملوث عناصر کو پکڑا جا چکا ہے۔

سکورٹی امور کے تجزیہ کار اور سندھ پولیس کے سابق سربراہ افضل شگری نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں فوج کے ترجمان کے ان دعوؤں سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ دشمن قوتیں پاکستان میں پائی جانے والی اس طرح کی تفریق کو مزید عدم استحکام کے لیے استعمال کرتی ہیں۔

نیکٹا کی رپورٹ سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ ملک میں دہشت گرد واقعات میں کمی ضرور ہوئی ہے لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ قومی لائحہ عمل پر سنجیدگی سے عمل درآمد جاری رکھا جائے تاکہ اس سے حاصل ہونے والے نتائج دیرپا ثابت ہو سکیں۔

فوج کے ترجمان نے دعویٰ کیا تھا کہ اس طرح کے حملوں کے پیچھے بھارت اور افغانستان کی خفیہ ایجنسیاں سرگرم ہیں۔ پڑوسی ممالک ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے پاکستان پر بھی ایسے ہی الزامات عائد کرتے ہیں۔

ںیکٹا کے فراہم کردہ اعداد و شمار

رپورٹ۔ علی رانا

پاکستان میں انسداد دہشت گردی کے حوالے سے قائم خصوصی ادارے نیکٹا کے سربراہ کا کہنا ہے کہ ابتک 383 دہشتگردوں کو سزائے موت دی جاچکی ہے، وزارت داخلہ نے دعویٰ کیا ہے کہ کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات 97 فیصد اور دہشت گردی میں ا98فیصد کمی ہوئی ہے، ملک بھر میں سرچ آپریشنز کے دوران 2 لاکھ65 ہزار افراد کو گرفتار کرلیا گیا

نیکٹا کے سربراہ احسان غنی نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس میں نیشنل ایکشن پلان عمل درآمد رپورٹ کمیٹی میں پیش کی ۔ انہوں نے بتایا کہ اب تک 383 دہشت گردوں کو سزائے موت دی جا چکی ہے۔ وزارت داخلہ کی طرف سے 190 مقدمات فوجی عدالتوں کو بھیجے گئے۔ فوجی عدالتوں میں 147 مقدمات زیر سماعت ہیں، جبکہ وہاں سے 49 مقدمات کے فیصلے کردیے گئے ہیں۔

ملک بھر میں موبائل سمز کی تصدیق کے بعد 9 کروڑ، 80 لاکھ موبائل فون سمز بند کی گئیں۔

مدارس کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ مدارس میں اصلاحات پر تاحال عمل درآمد نہیں ہو سکا۔

ملک بھر میں کالعدم تنظیموں کی تعداد 164 ہے۔ فورتھ شیڈول میں 8 ہزار 333 افراد شامل ہیں۔

ایک سوال کے جواب مین احسان غنی نے بتایا کہ اشتعال انگیز تقارير کے جرم میں 2 ہزار 528 افراد کو گرفتار کیا گیا۔لاوڈ اسپیکر کے غلط استعمال پر 17 ہزار 746 افراد گرفتار ہیں۔

نفرت انگیز تقارير کے ذریعے نفرت پھیلانے کے عمل کو مانیٹر کرنے کا پلان بھی ترتیب دیدیا گیا ہے جس کے تحت واٹس ایپ پورٹل تیار کیا جائے گا۔ اس ویب پورٹل کی مدد سے کوئی بھی شہری تقریر اپنے موبائل پر ریکارڈ کرکے نیکٹا کو بھیج سکے گا اور ایسی تقارير کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔

احسان غنی نے اسلحہ لائسنس کی نادرا سے تصدیق کرانے کے حوالے سے بھی آگاہ کیا اور کہا کہ آئندہ چند روز میں اخبارات میں اشتہار دیا جائے گا، اس مہم کے دوران 1 لاکھ، 60 ہزار اسلحہ لائسنس کی تصدیق کروائی جائے گی۔

دہشت گردوں کی معاونت کرنے والوں کے بارے میں احسان غنی نے بتایا 5 ہزار 23 اکاؤنٹ منجمد کردیے گئے ہیں جبکہ 30 کروڑ کی رقم بھی ضبط کرلی گئی ہے۔

احسان غنی نے بتایا کہ گذشتہ کچھ عرصہ میں عراق اور شام سے واپس آنے والے پاکستانیوں کا ڈیٹا تیار کیا جا رہا ہے، کیونکہ ان میں سے بعض افراد پر اس شبہے کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ وہ داعش اور دیگر تنظیموں میں کام کرنے کے لیے عراق اور شام گئے ۔

XS
SM
MD
LG