رسائی کے لنکس

logo-print

داعش کے رہنما کو پکڑنا ’’اولین ترجیح‘‘ ہونی چاہیئے: کلنٹن


ہیلری کلنٹن نے اخباری نمائندوں کو بتایا ہے کہ ’’البغدادی کو پکڑنے کے لیے اعلیٰ ترین سطح پر مرتکز کوشش درکار ہوگی‘‘۔ اُنھوں نے کہا کہ وہ سمجھتی ہیں کہ ’’اس سے ایک واضح پیغام جائے گا کہ امریکہ کے خلاف حملوں کا حکم دینے یا اس کے لیے اکسانے والا بچ نہیں سکتا‘‘

امریکی ڈیموکریٹک پارٹی کی صدارتی امیدوار ہیلری کلنٹن نے جمعرات کے روز مطالبہ کیا کہ داعش کے سربراہ ابو بکر البغدادی کو پکڑنے کے کام کو ’’اولین ترجیح دینی چاہیئے‘‘، ایسا ہی جیسے سال 2011 میں پاکستان میں چھاپہ مار کر القاعدہ کے بانی اسامہ بن لادن کو ہلاک کیا گیا۔

کلنٹن نے نیو یارک میں اخباری نمائندوں کو بتایا کہ ’’البغدادی کو پکڑنے کے لیے اعلیٰ ترین سطح پر مرتکز کوشش درکار ہوگی‘‘۔

اُنھوں نے کہا کہ وہ سمجھتی ہیں کہ ’’اس سے ایک واضح پیغام جائے گا کہ امریکہ کے خلاف حملوں کا حکم دینے یا اس کے لیے اکسانے والا بچ نہیں سکتا‘‘۔

سابق وزیر خارجہ نےبدھ کی شام گئے ایک ٹیلی ویژن فورم میں شرکت کرتے ہوئے اپنے مد مقابل امیدوار، ری پبلیکن پارٹی کے ڈونالڈ ٹرمپ کے لیے سخت لفظ استعمال کیے، جس دوران دونوں امیدواروں نےدفاع اور قومی سلامتی کے معاملات کے بارے میں سوالوں کے جواب دیے۔
کلنٹن نے کہا کہ ٹرمپ، جو جائیداد کے نامور کاروباری شخص ہیں اور پہلی بار کسی منتخب عہدے کے لیے لڑ رہے ہیں، ’’ایک بار پھر ناکام رہے‘‘ اور ظاہر کیا کہ وہ امریکی کمانڈر اِن چیف بننے کا ’’مزاج نہیں رکھتے‘‘۔

ٹرمپ کے بارے میں کلنٹن نے کہا کہ اُنھوں نے ’’امریکی جنرلوں کو بیکار بتایا ہے‘‘ ، جب کہ اُنھوں نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کو امریکی صدر براک اوباما کے مقابلے میں ایک بہتر رہنما قرار دیا ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ یہ بات ’’حیران کُن‘‘ اور ’’اپنے ملک کے لیے غیر محب وطن اور ہمارے عوام کے لیے بے عزتی کے مترادف ہے‘‘۔

اُنھوں نے کہا کہ ’’یہ امر خوفناک ہے چونکہ اس سے یہ پتا چلتا ہے کہ وہ پیوٹن کی ہر بات کو نظرانداز کرتے ہیں چاہے وہ کچھ بھی کریں، اور اُن کے لیے کوئی بھی عذر پیش کرنے سے نہیں ہچکچاتے‘‘۔

فورم میں ٹرمپ نے کہا کہ اوباما کے دور میں امریکی فوجی جنرلوں کی اہمیت کو ’’مٹی میں ملا دیا گیا ہے‘‘، ایک ایسی سطح پر ’’جو بات ہمارے ملک کے لیے شرمندگی کا باعث بنتی ہے‘‘، اور مشورہ دیا کہ وہ اُن میں چند جرنلوں کو ہٹانے کے بارے میں سوچ سکتے ہیں۔
اہم سیاسی جماعتوں کے امیدوار کے طور پر ٹرمپ اور کلنٹن دونوں کو خفیہ نوعیت کی انٹیلی جنس بریفنگ دی گئی ہے، جس کا مقصد یہ ہے کہ آئندہ سربراہ بننے پر اُنھیں بیرونی پالیسی کے کلیدی معاملات کا بہتر ادراک ہو۔ جب اُن سے پوچھا گیا آیا اس موقعے پر جو کچھ اُنھوں نے سنا، اُس پر وہ حیران تو نہیں ہوئے، ٹرمپ نے کہا کہ اوباما، کلنٹن اور وزیر خارجہ کیری نے انٹیلی جنس ماہرین کے مشورے کے برعکس عمل کیا۔

ٹرمپ نے کہا کہ ’’باڈی لینگوئیج کے لحاظ سے میں بہت ہی بہتر ہوں۔ میں یہ بتا سکتا ہوں کہ اس بات پر وہ خوش نہیں تھے کہ ہمارے رہنماؤں نے اُن کی سفارش کے تحت عمل نہیں کیا‘‘۔

کلنٹن نے دی گئی بریفنگ سے متعلق ٹرمپ کے تجزئے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ’’میں سمجھتی ہوں کہ یہ انتہائی نامناسب اور بے قاعدہ بات ہے۔ مجھے دی گئی بریفنگ کے کسی پہلو کے بارے میں میں کبھی کوئی بیان بازی نہیں کر سکتی‘‘۔

اپنے ٹوئیٹر اکاؤنٹ پر ایک بیان میں ٹرمپ نے فورم پر اپنی کارکردگی سے متعلق ٹرمپ نے ڈینگیں ماریں۔ اُنھوں نے کہا کہ ’’کمانڈر اِن چیف کی بریفنگ سے متعلق میرے خیالات کے بارے میں سب تبصرے اور رائے عامہ کے جائزے بہترین تھے۔ اچھے تھے‘‘۔

کلنٹن، جو امریکی کی پہلی خاتون صدر بننے کی خواہش رکھتی ہیں، کہا کہ وہ قوم سلامتی کے چوٹی کے سابق اہل کاروں کے ایک گروپ کا اجلاس بلانے والی ہیں، جنھوں نے ڈیموکریٹک اور ری پبلیکن پارٹی کے صدور کی میعاد صدارت کے دوران خدمات انجام دی ہیں کہ داعش کے جہادیوں کو شکست دینے کی حکمتِ عملی مرتب کی گئی۔

ٹرمپ نے بھی داعش کو تباہ کرنے کو اپنی امور خارجہ کی حکمتِ عملی کا ایک اہم نکتہ بنایا ہے، یہ کہتے ہوئے کہ عہدہ سنبھالنے کے 30 دِنوں کے اندر اندر وہ فوجی جنرلوں سے کہیں گے کہ ایک منصوبہ پیش کریں۔

XS
SM
MD
LG