رسائی کے لنکس

logo-print

بن غازی حملے پر ہلری کلنٹن کی کانگریس کمیٹی کے سامنے گواہی


بہت سے ڈیموکریٹ ارکان نے ریپبلکن ارکان کانگریس پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ بن غازی پر سماعت کے ذریعے ہلری کلنٹن کے آئندہ امریکی صدر بننے کے امکانات کو کچلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

امریکہ کی سابق وزیر خارجہ ہلری کلنٹن 2012 میں لیبیا کے شہر بن غازی میں امریکی قونصل خانے پر حملے کی چوتھی سماعت میں جمعرات کو بطور گواہ پیش ہوئیں۔ یہ سماعت ریپبلکن پارٹی کی قیادت میں کانگریس کی ایک کمیٹی کر رہی ہے۔ حملے میں امریکہ کے سفیر کرسٹوفر سٹیونز سمیت چار امریکی اہلکار ہلاک ہو گئے تھے۔

جس وقت یہ حملہ ہوا تھا اس وقت ہلری کلنٹن وزیر خارجہ تھیں۔ وہ جمعرات کو ہونے والی سماعت میں واحد گواہ تھیں۔

ریپبلکن پارٹی کے ارکانِ کانگریس نے الزام عائد کیا تھا کہ اس حملے اور اسے روکنے کے حوالے سے اقدامات کے بارے میں ہلری کلنٹن کے بیان میں کئی باتیں ایک دوسرے سے مطابقت نہیں رکھتیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ اس سے قبل کی گئی تحقیقات جامع نہیں تھیں۔

ریپبلکن ارکان یہ جاننا چاہتے تھے کہ سفارتی عمارت پر حملہ کسی منصوبے کے تحت کیا گیا دہشت گرد حملہ تھا جسے مناسب سکیورٹی انتظامات سے روکا جا سکتا تھا یا یہ اسلام کی تضحیک کرنے والی ایک وڈیو کے خلاف ہونے والے مظاہروں کا حصہ تھا۔

سماعت کا آغاز جمعرات کی صبح کو ہوا اور یہ شام دیر تک جاری رہی۔ ہلری کلنٹن نے تمام سوالوں کے جواب پرسکون انداز میں دیے اور کہا کہ کہیں بھی مکمل سکیورٹی یقینی بنانا ممکن ہیں۔

’’امریکیوں کو ایک خطرناک دنیا کی قیادت کرنا ہے اور ہمارے سفارتکاروں کو خطرناک جگہوں پر ہماری نمائندگی کرتے رہنا ہے۔ اپنے ملک کی حفاظت اور اپنے مفادات اور اقدار کے فروغ کے لیے ہمارے لیے کچھ خطرہ قبول کرنا ناگزیر ہے۔‘‘

کچھ ریپبلکن ارکان نے کہا ہے کہ ہلری کلنٹن نے سٹیونز کی طرف سے بن غازی میں مزید سکیورٹی کی درخواستوں کو مسترد کر دیا تھا، مگر ہلری کلنٹن نے کہا کہ وہ درخواستیں ان تک پہنچی ہی نہیں بلکہ ان کا فیصلہ سکیورٹی ماہرین نے کیا تھا۔

حملے کے فوراً بعد اوباما انتظامیہ کی جانب سے متضاد بیانات سامنے آئے تھے جن کے بارے میں ہلری کلنٹن نے کہا کہ وہ ابتدائی انٹیلی جنس پر مبنی تھے۔

’’شاید اس حملے کے مختلف محرکات تھے۔‘‘ مگر تین سال گزرنے اور کئی تحقیقات ہونے کے بعد بھی یہ واضح نہیں کہ شدت پسندوں نے کیوں امریکی قونصل خانے پر حملہ کیا تھا۔

ہلری کلنٹن 2016 کے صدارتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی کی جانب سے صف اول کی امیدوار ہیں۔

بہت سے ڈیموکریٹ ارکان نے ریپبلکن ارکان کانگریس پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ بن غازی پر سماعت کے ذریعے ہلری کلنٹن کے آئندہ امریکی صدر بننے کے امکانات کو کچلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

XS
SM
MD
LG