رسائی کے لنکس

logo-print

دوسرا صدارتی مباحثہ، دونوں امیدواروں سے جواب طلبی متوقع


زیادہ امکان اِس بات کا ہے کہ کلنٹن اور ٹرمپ کے درمیان یہ مباحثہ ''شطرنج کی چال'' جیسا ہوگا، ایسے میں ناظرین یہ پرکھ سکیں گے کہ کون کس پر کیا وار کرتا ہے اور کون اپنے جذبات پر کیسے حاوی پاتا ہے

ڈیموکریٹک صدارتی امیدوار ہیلری کلنٹن اور اُن کے ری پبلیکن ہم منصب ڈونالڈ ٹرمپ اتوار کی رات (ایسٹرن ٹائم کے مطابق 9 بجے، اور پاکستانی وقت کے مطابق صبح 6 بجے) سینٹ لوئیس سے ٹیلی ویژن پر دوسرے صدارتی مباحثے میں ایک دوسرے کا سامنا کریں گے۔

پہلے مباحثے کے بعد، جس کے لیے خیال کیا جاتا ہے کہ کلنٹن کو برتری حاصل تھی، ٹرمپ کو ووٹروں کی جانب سے مختلف نوع کی تشویش کا سامنا کرنا پڑا، جن میں بظاہر کئی برسوں سے وفاقی ٹیکس کی عدم ادائگی کا معاملہ شامل ہے۔ تاہم، یہ معاملہ اُس وقت پسِ پشت چلا گیا جب جمعے کے روز ایک 11 سال پرانا آڈیو ٹیپ منظر پر آیا جس میں ٹرمپ خواتین کے خلاف نازیبا گفتگو کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

کلنٹن کو 'وکی لیکز' کی جانب سے کیے گئے انکشافات کا ممکنہ جواب دینا ہوگا، جن میں بتایا گیا ہے کہ کسی وقت وہ لوگوں کے سامنے ایک مئوقف اپناتی ہیں جب کہ نجی طور پر وہ اُس کے الٹ سوچ کا اظہار کرتی ہیں، جن میں مبینہ طور پر تجارت اور 'وال اسٹریٹ' کے ساتھ معاملات شامل ہیں۔ رائے عامہ کے جائزوں سے پتا چلتا ہے کہ امریکیوں کی ایک بہت بڑی تعداد اُن کے قابلِ بھروسہ ہونے پر سوال اٹھاتی ہے، جب کہ یہ جائزہ رپورٹیں جمعے کو وکی لیکز کے انکشافات سے پہلے جاری کی گئی تھیں۔

اتوار کے روز کلنٹن کو یہ موقع ملے گا کہ وہ ''صدارتی انداز'' کا مظاہرہ کریں، جب کہ اُن کے مخالف کہتے رہے ہیں کہ اُن کے پاس یہ صلاحیت نہیں۔ اتوار کو تمام نظریں مِزوری کے شہر، سینٹ لوئس میں منعقد ہونے والے اِس مباحثے پر لگی ہوں گی آیا ٹرمپ کے ناشائستہ بیان اور مالی لین دین پر اُن سے کیا سوال کیا جاتا ہے۔

ادھر، اتوار کے مباحثےکے دوران، ٹرمپ کو یہ موقع میسر آئے گا کہ اپنے رویے، مزاج اور صدارتی عہدہ سنبھالنے کی صلاحیت سے متعلق اُن کی پارٹی کو لاحق تشویش کا وہ کس طرح جواب دیتے ہیں۔

زیادہ امکان اِس بات کا ہے کہ کلنٹن اور ٹرمپ کے درمیان یہ مباحثہ ''شطرنج کی چال'' جیسا ہوگا، ایسے میں ناظرین یہ پرکھ سکیں گے کہ کون کس پر کیا وار کرتا ہے، اور کون اپنے جذبات پر کیسے حاوی پاتا ہے۔

ناظرین اِس منظر کو دیکھیں گے جس کا طریقہ کار 'ٹائون ہال' اجلاس جیسا ہوگا، جس میں امیدوار مدعو نگرانوں اور ووٹروں کے سوالات کے جواب دیں گے۔

ٹرمپ نے ایک جارحانہ انداز اپنا رکھا ہے۔ عین ممکن ہے کہ وہ بِل کلنٹن کے مواخذے کے معاملے کو چھیڑیں، جو اُن کے عہدہ صدارت کی دوسری میعاد کا معاملہ تھا۔
تقریباً دو ہفتے قبل ہونے والے پہلے مباحثے میں کلنٹن نے ٹرمپ سے سوال کیا تھا آیا اُنھوں نے اپنی ٹیکس کی معلومات جاری کرنے سے کیوں انکار کر رکھا ہے اور وہ کیا چھپا رہے ہیں۔ اُنھوں نے اِس گمان کا اظہار کیا کہ ممکن ہے اُنھوں نے کوئی ٹیکس ادا ہی نہ کیا ہو، جس پر اُنھوں نے جواب دیا تھا کہ ''چونکہ میں سمارٹ ہوں''؛ جس بیان پر متعدد ٹیکس دہندگان مطمئن دکھائی نہیں دیے۔

متعدد قدامت پسند نہ صرف ٹرمپ کی جانب سے پہلے مباحثے میں پیش کی گئی کارکردگی پر دل شکستہ لگتے تھے، بلکہ اُن دِنوں جب سابق 'مس یونیورس' الیشیا مشاڈو ہدف تنقید بن رہی تھیں، ٹرمپ کی جانب سے جاری کردہ ٹوئیٹس کا معاملہ بھی شامل ہے۔ 'وائس آف امریکہ' کے ہفت روزہ پروگرام 'اشوز اِن دی نیوز' کے ایڑیٹر، فریڈ بارنس نے کہا ہے کہ ''اِس بارے میں وہ جتنا زیادہ بولیں گے، وہ اُن کے حق میں ٹھیک نہیں ہوگا۔ بہتر ہوگا اگر وہ اس مکالمے کو وہیں ختم کردیں''۔

پہلے مباحثے کے بعد، قومی اور چند کانٹے کے مقابلےوالی ریاستوں میں کلنٹن کو زیادہ سبقت حاصل ہوئی، اور ٹرمپ کا سامنا کرتے ہوئے عین ممکن ہے کہ وہ اتحاد پر زور دیں، جیسا کہ فلوریڈا کے شہر کورل اسپرنگس میں ریلی سے خطاب کرتے ہوئے اُنھوں نے حالیہ دِنوں اپنے حامیوں پر متحد ہونے پر زور دیا تھا۔ بقول اُن کے، ''میرا خیال ہے کہ ہم پہلے ہی عظیم ہیں، اگر ہم مل کر کام کریں گے تو ہم آئندہ برسوں کے دوران عظیم تر ہوں گے''۔

تیسرا صدارتی مباحثہ، 19 اکتوبر کو نیواڈا کے شہر، لاس ویگاس میں منعقد ہوگا۔

XS
SM
MD
LG